
ایکنا کی رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل یا ادارہ عفو بین الملل نے ایک بیان دے کر تاکید کی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف غیر منصفانہ امتیازی رویہ اور تعصب ایک قسم کی نسل پرستی ہے۔
اس ادارے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یورپ میں اسلاموفوبیا ان سیاستدانوں کی وجہ سے بڑھ گیا ہے جو اپنی گفتگو میں اسلام مخالف باتوں کو استعمال کرتے ہیں۔
چوبیس ممالک کے پارلیمنٹ کے نمائندے یورپی کونسل کی پارلیمانی اسمبلی (PACE) کے اجلاس میں ایک ایسی قرارداد پر اپنی رائے دیں گے جو بہت سے یورپی ممالک کے ذمہ داروں کو مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک رائج کرنے کے لئے مورد الزام ٹھہراتی ہے اور حکومتوں سے چاہتی ہے کہ اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے لئے اس کے خلاف نسل پرستی کے عنوان سے اقدام کریں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل میں یورپ کے پروگرام کے علاقائی ذمہ دار نیلز موزنکس نے ایک گفتگو میں اس موضوع پر کہا کہ یہ فیصلہ ایک خطرے کی گھنٹی ہونا چاہیے اس لئے کہ یورپ میں نسل پرستانہ قوانین، پالیسی اور اقدامات کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
مسلمانوں کے خلاف نفرت کی بنیاد پر ہونے والے جرائم عام طور سے رسمی طریقے سے ریکارڈ میں نہیں آتے ہیں۔ اسی طرح ان کے بارے میں موثر طریقے سے تحقیقات نہیں ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا روزانہ کا تعصب اور امتیازی سلوک جو مسلمانوں کے پریشان ہونے کا سبب بنتا ہے وہ نسل پرستی کی ایک قسم ہے اور مسلمان خواتین ایسے سلوک سے زیادہ دوچار ہوتی ہیں اور مختلف وجہ سے غیر منصفانہ امتیاز کا شکار ہوتی ہیں۔
نیلز موزنکس نے اس بات پر زور دیا کہ جس زمانے میں سیاستدان انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے رعب و وحشت رائج کرکے مسلمانوں کو غلط اور برا انسان ظاہر کرتے ہیں تو ہر زمانے سے زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ مسلمان سماج فیصلہ کرنے کے لئے کوئی رائے اور نظر رکھتا ہو۔