
ایکنا – نیوز ایجنسی Korea Joong Ang Daily، کے مطابق جنوبی کوریا کے اقتصادی ادارے نے رپورٹ میں کہا ہے کہ سال 2021 میں مسلمان آبادی ڈیڑھ لاکھ سے بڑھ چکی ہے جنمیں پینتالیس ہزار کورین باشندے شامل ہیں جب کہ باقی غیرملکی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سیول اس وقت غیرملکی طلبا کا پسندیدہ مرکز بن رہا ہے اور اس وقت بیس فیصد اضافی طلبا نے اسکالرشپ کی درخواست کی ہے اور ممکنہ طور پر مسلمان طلبا کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک راہ حل یہ ہے کہ مسلمان طلبا کے لیے حلال سہولیات فراہم کی جائے جس کے لیے خیابان اسلام سیول بہترین ہے۔

خیابان اسلام، محله ایتهوون (Itaewon) جو سیول کے مرکز یونگاسن(Yongsan میں واقع ہے اس کے ایک حصے کو کہا جاتا ہے جو خیابان اوسادان(Usadan) کے ساتھ یکجا ہے اور یہاں واحد مسجد واقع ہے۔
یہاں پر مسلمان طلبا سور کے گوشت کھانے سے اجتناب کرتے ہیں اور حلال گوشت کا ملنا کافی مشکل کام ہے۔

خیابان اسلام میں مسجد کے ساتھ البرکه اسٹور واقع ہے جہاں حلال گوشت مختلف اقسام میں دستیاب ہے۔
غیر ملکی مارکیٹ (The Foreign Food Mart) میں بھی تازہ اور حلال گوشت میسر ہے.

البتہ ریسٹورنٹ کافی تعداد میں ہے جہاں حلال گوشت دستیاب ہے جنمیں Halal Guys ـ ریسٹورنٹ ہے جنکے مختلف برانچز ہیں جو هانگیک (Hongik) یونیورسٹی کے ساتھ واقع ہے. دیگر ریسٹورنٹ میں لٹل انڈیا، بمبئی گریل، ہوجی بوبو اور کباب قابل ذکر ہے جو خیابان اسلام اور ایتہ وون میں موجود ہیں۔

خیابان میں ایک منفرد مرکز کتاب شیخ منیر احمد کا دکان ہے یہ واحد اسلامی بک سیلر ہے جو کوریا میں قایم ہے اور یہاں پر قرآن کریم مختلف زبانوں میں ترجمے اور دیگر اسلامی کتب موجود ہیں۔
احمد اظھار کا کہنا ہے کہ سال 2001 میں کوریا آیا ہے اور سال ۲۰۰۶ میں اس شاپ کا افتتاح ہوا ہے۔/
4099153