
ایکنا- نیوز ایجنسی The Conversation کی دنیا کی بارے رپورٹ کے میں کہا گیا ہے کہ سال 2023 میں انڈیا کی آبادی چین سے بڑھ جائے گی اور اس وقت دنیا کی آبادی آٹھ ارب سے بڑھ چکی ہے۔
عصر حاضر میں انڈین خواتین کی اولاد انکی ماوں کی نسبت کمتر ہے تاہم کم آبادی کے باجود ملکی آبادی میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔
یہ آئیڈیا کہ " ہر گھرانہ ایک بچہ" کی پالیسی جو چینی پالیسی ہے اس کی کاپی کی جائے اس وقت چل رہا ہے تاہم اس پالیسی کو کاپی کرنا بھترین حالت میں غلطی اور بدترین حالت میں خطرناک ہے۔
چین اور انڈیا دونوں آبادی کے مسائل سے دوچار ہیں اور انڈیا میں آبادی بارے سخت گیر پالیسی انڈیا کے لیے بدترین نتائیج دے سکتی ہے۔

انڈیا نے خاندانی منصوبہ بندی کو پہلی بار سال 1952 میں بنایا تاکہ آبادی کو کنٹرول کیا جاسکے تاہم بتدریج فیملیز کی تعداد بڑھتی رہی اس کے بعد حکومت نے اولاد سے زبردستی محروم کرنے کی پالیسی بالخصوص مسلمانوں پر لاگو کیا
اس پالیسی کے چین اور انڈیا دونوں ممالک میں برے اثرات ظاہر ہوئے۔

دونوں ممالک میں سقط جنین کے قانون سے مختلف مشکلات نے جنم لیا جنمیں اجتماعی مسائل، زبردستی کی شادی اور انسانی اسمگلنگ شامل ہے۔
بڑھتی آبادی کو کنٹرول کرنے کی پالیسی دیگر پالیسیوں کی مانند میں خصوصی طور پر مسلمان اور نچلی ذات کے لوگ شامل ہیں جو ہندو قوم پرستی اور ڈیموکریٹک پالیسیوں کی نفی کی دلیل ہے۔/
4099747