
ایکنا نیوز- قرآن کریم کے چپھونویں سورے کا نام «واقعه» ہے. اس سورہ میں 96 آیات ہیں اور یہ سورہ 27 ویں پارے میں موجود ہے. یہ مکی سورہ ترتیب نزول کے حوالے سے چوالیسواں سورہ ہے جو قلب رسول گرامی اسلام (ص) پر اترا ہے۔
«واقعه» کا معنی حادثہ یا اتفاق ہے جو قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور یہ لفظ پہلی آیت میں آیا ہے۔
سوره واقعه میں روز قیامت اور اس دن کے واقعات بارے بات کرتا ہے؛ ایسا دن جس میں سب دوبارہ زندہ ہوتے ہیں اور انکے اعمال کا حساب کتاب ہوتا ہے۔
شروع میں بعض واقعات اور تبدیلیوں کی بات جو زمین ہوتی ہیں جیسے زلزلہ اور پہاڑوں کا بکھر جانا اور یہ کہ لوگوں کے تین گروپ بنتے ہیں : (1) سبقت لینے والوں کا گروپ (2) دائیں بازو کے گروپ (3) بائیں بازو کے گروپ، بائیں گروپ جو خدا و روز قیامت کی تکذیب کرتا یا جھٹلاتا ہے اور انسان کو توحید و ایمان اور روز قیامت کی دعوت دی جاتی ہے۔
سوره واقعه میں بعض واقعات کی طرف اشارہ ہوتا ہے:
ظهور قيامت اور اس دن کے وحشتناک واقعات، انسانوں کا اعمال کی بنیاد پر مختلف گروپ میں تقسیم ہونا، انسان کا خدا کے ہاں مقام اور مختلف قسم کے بدلے، دوسرے گروپ یعنی دائیں بازو کے گروپ جو مختلف قسم کی نعمتوں سے آراستہ ہوں گے، بائیں بازو کے گروپ کے دردناک انجام، قیامت پر ثبوت و دلائل اور انسان کا نطفہ سے پیدا ہونا ، پودوں کے وجود، بارش اور آگ جو خدا کی نشانیوں میں سے ہیں۔
انسان کی موت کے وقت کی حالت اور اس دنیا سے انتقال اور مومنین کا بدلہ اور کافروں کو سز دیگر مؤضوعات میں شامل ہیں۔
دائیں بازو کا گروپ اہل جنت اور بائیں بازو کا گروپ جہنمی ہے تاہم "سبقت لینے والوں کا گروپ" جو آیت دس میں آیا ہے؛: «وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ: سبقت لینے والے اعلی ہے»، مفسرین کے مختلف نظریات ہیں. سیدمحمدحسین طباطبایی کے مطابق «سابقون» کار خیر میں سبقت لینے والے، اور دوسری بار «سابقون» سے مراد سبقت لینے والے جو خدا کی رحمت اور مغفرت کی طرف سبقت لے جاتے ہیں جو خدا کے ہاں بخشش لینے والوں میں پیش ہیں۔/