
ایکنا- آیات قرآن کریم میں عالم ہستی کے قوانین بیان کیے جاتے ہیں ان میں سے آیت ۳۶ سوره زخرف میں ارشاد ہوتا ہے: «وَمَنْ يَعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمَنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ:
جو خدا کی یاد سے آنکھ بند کرلیتے ہیں، شیطان کو انکا ہمنشین بنا دیتا ہوں».
خدا جو خیر و کمال کا سرچشمہ ہے، خدا توجہ ہٹا دیتا ہے اور اس کے برعکس بن جاتا ہے
ہمنشین شیطان سے کیا مراد ہے بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ برے دوست جو انکے دل کے پاس ہوتا ہے جو انکو ہمیشہ وسوسے میں ڈالتا ہے۔
امام علی ابن ابی طالب شیطان کے حوالے سے فرماتے ہیں: «اتَّخَذُوا الشَّيْطَانَ لِأَمْرِهِمْ مِلَاكاً وَ اتَّخَذَهُمْ لَهُ أَشْرَاكاً، فَبَاضَ وَ فَرَّخَ فِي صُدُورِهِمْ وَ دَبَّ وَ دَرَجَ فِي حُجُورِهِمْ، فَنَظَرَ بِأَعْيُنِهِمْ وَ نَطَقَ بِأَلْسِنَتِهِمْ:
شيطان کو اپنا مدد گار بنایا ہے اور وہ ان سے دام بنا لیتا ہے، انکے سینے میں جگہ بنا لیتا ہے اور
انکے ہمراہ پرورش پاتا ہے. وہ شیطان کے کہنے پر دیکھتے اور انکی بات کرتا ہے». (نهج البلاغه؛ خطبه 7)
علامه محمدتقی جعفری اس کی تشریح میں فرماتے ہیں: کل کے انسان تھے جو آج کے شیطان بنے ہیں، وہ کل انسان کی خصوصیات کے حامل تھے چلتے تھے اور دوسروں ک ہاتھ کو کمال کی طرف کھینچتے مگر آج اس خصوصیات سے محروم ہیں اور لوگوں کو کمال کی جانب جانے سے روکتے ہیں
اب جس فرد یا گروپ سے ملتا ہے انکو منحرف کرتا ہے یہ انسان تھے جو شیطان بنے ہیں۔