اماراتی خلا باز روزہ کیسے رکھے گا؟

IQNA

اماراتی خلا باز روزہ کیسے رکھے گا؟

7:32 - March 05, 2023
خبر کا کوڈ: 3513876
ایکنا تھران: فضا میں فضائئ مشن جو چھ مہینے تک جاری رہے گا اس میں ایک مسلمان خلا باز کی موجودگی اور پھر روزہ داری پر بحث چھڑ گیی ہے۔

ایکنا- خلیج ٹایمز کے مطابق امارات کے خلا باز یا آسٹروناٹ سلطان النیادی فضائی مشن میں شریک ہورہا ہے جو چھ مہینے تک جاری رہے گا گویا رمضان المبارک اور عید کو وہ خلا میں گزارے دے گا۔

اس حوالے سے ایک بحث چل پڑی ہے کہ جہاں فضائی اسٹیشن ہر چوبیس گھنٹے سولہ بار زمین کے گرد چکر لگائے گا یعنی خلا باز ہر دن میں سولہ بار سورج کے غروب اور طلوع کو دیکھے گا۔

زمبابوے کے عالم اسماعیل مفتی منک کا کہنا ہے کہ ان کے لیے روزہ رکھنا ضروری نہیں کیونکہ وہ سفر میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر وہ مائل ہو تو روزہ رکھ سکتا ہے اور اس کے مختلف مسائل ہوسکتے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ عام طور پر انسان طلوع اور غروب تک روزہ رکھتا ہے لہذا اگر کسی ایرے میں چوبیس گھنٹے میں یہ انجام نہ پائے تو وہ ایک ایورج حساب لگا سکتا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ چوبیس گھنٹے کو تقسیم کرے تو بارہ گھنٹے ایوریج نکل سکتا ہے یعنی گیارہ گھنٹے مکمل ہونے کے بعد بارہویں گھنٹے میں وہ روزہ افطار کرسکتا ہے۔

اسلامی مرکز دبئی کے شیخ ایاز هوسی نے آیت ۱۸۵ سوره بقره کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ماه رمضان میں جو سفر میں ہو یا بیمار تو انکے لیے روزہ رکھنا لازم نہیں۔

 

شیخ هوسی کا کہنا تھا کہ انکی نماز بھی قصر ہوگی۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ قبلہ کا رخ کیسے تعین کرے تو منک بار گھنٹے حساب سے وہ شروع کے اوقات میں نماز فجر پڑھے گا چھ گھنٹے بعد ظھر و عصر اور نو گھنٹے کے بعد مغرب پڑھ سکتا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ فضا میں آپ سجدہ نہیں کرسکتے تو جس صورت میں ممکن ہے آپ نماز ادا کرسکتے ہیں کھڑے، بیٹھے یا لیٹے جس صورت میں ہو نماز پڑھ سکتے ہیں۔

منک کا کہنا تھا کہ اگر وہ قبلہ کا رخ متعین نہیں کرسکتے تو اسکی دوسری صورت بھی ممکن ہے.

منک کا کہنا تھا کہ وہ کوشش کرے کہ زمین کی طرف رخ کرکے نماز پڑھے اگر ایسا ممکن نہ ہو توجس صورت میں ممکن ہو وہ نماز ادا کرسکتا ہے./

 

4125712

نظرات بینندگان
captcha