
ایکنا- الھدید ویب سائٹ کے مطابق لندن کی انٹی ٹروریسم حکمت عملی دوبارہ مسلمانوں پر فوکس ہورہی ہے کیونکہ ایک بار اسلامی دہشت گردی کے نعرے لگائے جارہے ہیں۔
اس موضوع پر کام کرنے والے ویلیام شاکروس کا کہنا تھا: ہماری سرگرمی کو صرف ممنوع شدہ آئیدیالوجی پر فوکس نہیں ہونا چاہئے بلکہ سارے مقامی شدت پسندوں پر نظر رکھنی ہوگی ایسے لوگ جو دہشت گردی کی فضا بنا سکتے ہیں۔
انہوں نے موجود پالیسی کو دوغلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں اسلامی آئیڈیالوجی کی محدود تعریف بیان کی گیی ہے مگر عملا دیگر شدت پسندوں کے خلاف اقدام مختلف ہے اور بڑے وسیع معانی شامل ہیں۔
برطانوی مسلم فلاحی ادارے کی رکن یاسمین البهای براون نے اپنے مقالے میں جو روزنامه Aye، میں شایع ہوا ہے اس میں شاکروس کو اس عہدے پر نصب کرنے کی مذمت کرتے ہویے انہیں اسلام مخالف قرار دیا۔
شاكروس نے سال ۲۰۱۲ میں جب وہ ایک امریکی ادارے کا سربراہ تھا کہا تھا کہ اسلام ایک اہم خطرہ ہے جو برطانیہ کے مستقبل کو خطرات سے دوچار کرسکتا ہے۔
یاسمین البهای براون نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جھوٹ پر مبنی پالیسی سے مقابلے پر تاکید کرتے ہویے لکھتی ہے کہ انکے خلاف پروپگنڈہ نیو نازی اور دیگر شدت پسندوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر ہورہا ہے۔/
4127172