دینداری«عدالت» سے شروع اور «اخلاق» پر کمال کو پہنچ جاتی ہے

IQNA

دینداری«عدالت» سے شروع اور «اخلاق» پر کمال کو پہنچ جاتی ہے

8:57 - April 16, 2023
خبر کا کوڈ: 3514119
دین داری کا اہم ترین معیار معاشرے میں عدالت اور اخلاق کے وجود سے وابستہ ہے اور اسی لیے دینداری عدالت سے شروع اور اخلاق پر کمال کو پہنچتی ہے۔

ایکنا نیوز- دینی ماخوذات کے مطابق دینداری کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، پہلا حصہ مناسک اور شعائر جو تمام مذاہب میں ہیں جیسے اسلام میں نماز، روزہ، حج، مقدس مکانات و اوقات، دعا و زیارات و عزاداری وغیرہ

دوسرا حصہ عقائد پر مشتمل ہے جسمیں توحید و نبوت پر ایمان رکھنا ہے۔

 تیسرے حصے میں اخلاقیات جیسے تواضع و عاجزی، خوش گمانی اور نیک افکار وغیرہ۔

چھوتے حصے میں حق  اور حقوق کی رعایت انسانوں کے درمیان اور یہ کہ ایکدوسرے پر ظلم نہ کریں اور خرید و فروش میں درست معاملہ کریں۔

پانچویں حصے میں حاکم اور حکومت اور سیاسی معاملات جیسے امامت و ولایت فقیہ وغیرہ۔

 

کونسا شعبہ زیادہ اہمیت کے حامل ہے؟

سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان پانچوں شعبوں میں سے کونسا شعبہ زیادہ تاکید کی جاتی ہے یا اہمیت کے حامل ہے؟

۵۰۰ روایات موجود ہیں کہ امام زمانہ دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا لہذا اہم ترین کام امام کا نظام عدل نافذ کرنا ہے، قرآن رسالت کے اہم اہداف اور نزول کتاب کے مقصد میں واضح انداز میں کہتا ہے کہ رسول و کتب کا مقصد عدل و انصاف لانا ہے۔

 

دینداری عدل و عدالت سے شروع اور اخلاق پر مکمل ہوتی ہے

پیغمبر اکرم (ص) ایک متواتر حدیث میں فرماتے ہیں «انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق» یعنی میں اخلاق کامل کرنے کے لیے مبعوث ہوا ہوں، قرآنی آیت رسالت کے اہداف میں عدل کے قیام پر تاکید کرتا ہے وہ کم ترین دینداری کی تشریح کرتا ہے اور اخلاق پر عمل کو کم ترین دینداری کا معیار بیان کرتا ہے یعنی دینداری اخلاقیات سے شروع اور عدالت پر مکمل ہوتی ہے۔

 

 خطبه اول نهج‌البلاغه میں بیان کیا گیا ہے کہ انبیاء کی رسالت کا مقصد انسانوں کو عاقل بنانا اور عقل کے کونپلوں کو کھولنا ہے تاکہ انسان سوال کریں اور ایک رائے پر بضد نہ رہے، ہم ان  سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کونسا شعبہ دینداری کے حوالے سیاست، اخلاقیات اور عقاید زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔

 

* قرآن و حدیث یونیورسٹی کے استاد مهدی مهریزی، کی «دینداری کے معیارات» نشست سے گفتگو سے اقتباس

نظرات بینندگان
captcha