کینه و انتقام، رحمت الهی میں رکاوٹ

IQNA

کینه و انتقام، رحمت الهی میں رکاوٹ

7:41 - April 18, 2023
خبر کا کوڈ: 3514138
جو دوسروں سے کینہ اور انتقام کا جذبہ رکھتا ہے وہ خدا کی رحمت جذب نہیں کرسکتا اور انسان جسقدر مہربان اور درگزر کرنے والا ہوگا اسی قدر خدا کی رحمت حاصل کرسکتا ہے۔

ایکنا نیوز- حجت‌الاسلام والمسلمین محمد سروش محلاتی دعا سحر کی تشریح میں خدا رحمت کی رحمت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں:

دعا سحر میں ہم جس رحمت کو پڑھتے ہیں وہ دو قسم کی ہیں پہلی رحمت اپنے لیے اور دوسری رحمت دوسروں کے لیے۔ پہلئ رحمت اس وقت شروع ہوتی ہے جب انسان خدا سے مغفرت اور بخشش طلب کرتا ہے یا گرفتار بندہ طلب رحمت کرتا ہے۔

اسی حوالے سے آیت ۵۳ زمر میں ہم پڑھتے ہیں «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» رحمت خدا سے مایوس مت ہوجائے؛ ان لوگوں کے بارے میں جو خود پر ظلم کرتا ہے انکو رسول اسلام(ص) بشارت دیتا ہے. یہاں رحمت الھی سے انکا علاج ہوتا ہے۔

دوسری قسم کی رحمت وہ ہے کہ انسان خدا سے رحمت کی صفت طلب کرتا ہے یعنی ایسی صفت کہ وہ دوسروں سے رحمت کے ساتھ پیش آئے تاکہ وہ دوسروں کی مدد کرسکے، قرآن فرماتا ہے کہ

حضرت عیسی(ع) کے پیروکار ایسے ہی تھے۔

البته قرآن کی بعض آیات میں انکے عقیدے اور رویے پر تنقید بھی کیا گیا ہے تاہم ایسی رحمت صرف اپنی مشکل کے حل لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی موثر ہے.

 «اللهم انی اسئلک من رحمتک باوسعها؛ یعنی اے خدا جو رحمت واسعہ آپ دوسروں بندوں کی نسبت رکھتے ہیں وہیں ہمیں بھی عطا فرما»

ہم رمضان المبارک میں سحر کی دعا میں خدا سے تقاضا کرتے ہیں کہ اپنی رحمت ہمیں عطا کرکے ہمیں منور فرما تاکہ تیرے نور سے ہم دوسروں کو نورانی کرسکے۔

 

جس دل میں کینہ ہو وہ رحمت جذب نہیں کرسکتا

اس آیت میں رسول اسلام(ص) سے کہا جاتا ہے: «فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ...؛ پس رحمت الھی کی [بركت] سے انکے ساتھ آپ رحمت والے بن گیے »(آل عمران، 159)؛ یعنی اے رسول گرامی(ص)، تو ہماری رحمت کی وجہ سے دوسروں کے ساتھ مہربان ہے؛ یہ رحمت کی دوسری قسم ہے؛ تو ہماری رحمت کی وجہ سے پوری کائنات کے لیے رحمت ہے۔

البته رحمت کا انداز صرف قلب رسول اسلام(ص) میں موجود ہے اور اس کا کم تر درجہ دوسروں میں موجود ہے جیسے ماں کی رحمت و محبت اولاد کے لیے۔

 

اس کے جواب میں اولاد کو بتانا چاہیے کہ والدین کے ہمراہ رحمت و محبت سے پیش آئے. لہذا کہا گیا ہے: «وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا؛ اپنے پروں کو انکے لیے محبت کے ساتھ پھیلا دے، انکے ساتھ محبت و عاجزی سے پیش اور کہو کے اے پروردگار جس طرح انہوں نے بچپن میں ہماری تریبت کی تو ان پر رحمت نازل فرما»(اسراء، 24).

شب ہائے قدر میں صرف مشکلات کے حل کے لیے خدا سے رحمت مت مانگے جو دوسروں کے لیے محبت و رحمت نہیں رکھتا  اور اسکا دل کینہ سے پر ہے وہ خدا کی رحمت و لطف سے مستفید نہیں ہوسکتا کیونکہ خدا کی مہربانی انکے لیے ہے جنکا دل مہربان ہے اور مھربان دل خدا کی مہربانی طلب کرسکتا ہے اور یہ ایکدوسرے پر موثر ہے۔/

نظرات بینندگان
captcha