
امام خمینی(ره) تحقیقی مرکز کے رکن حجتالاسلام والمسلمین مصطفی کریمی نے علمی نشست « قرآن کی جامعیت کو کشف کرنے کی روش» نشست سے خطاب کیا جس کا اقتباس حاضر خدمت ہے:
ممکن ہے کہ کسی کے دماغ میں آتا ہو کہ قرآن کو ہر موضوع میں داخل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ بہت سی چیزیں عقل خود سمجھ سکتی ہے تاہم قرآن نے ایک فرعی یا جزی حوالے سے اسکو بیان کیا ہے۔
دین سے توقعات کا پورا نہ ہونے کا تصور مغربی افکار اور عیسائیت سے اخذ شدہ ہے جس کو پہلی بار گلیلو نے پیش کیا، جب اس نے زمین کے مرکز ہونے کا مسئلہ پیش کیا جو عیسائی افکار کے مخالف تھا جو سورج کا مرکز پیش کرتا تھا، تو انہوں نے اس کی پیشی کی۔
گلیلو چاہتا تھا کہ وہ تقوی کے ساتھ عالمانہ انداز سے رہے، لہذا اس نے کہا کہ ہم مقدس کتاب سے کیا توقع رکھتے ہیں؟ خود اس نے جواب دیا کہ ہم علمی راہ حل کی اس سے توقع نہیں رکھ سکتے۔
وحی عقل کی مددگار
دین و مذہب سے توقع رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ مذہب ہماری ضروریات کا جواب دہ ہے اور وحی اس وقت ہماری مدد کرتی ہے جب ہم ناتواں رہ جائے، لہذا صرف عقل کافی نہیں بلکہ وحی کی مدد اہم ہے۔
عقل تنہا انسانی شناخت کے لیے کافی نہیں
کہا جاتا ہے کہ عقل انسان کی شناخت کے لیے کافی ہے، مگر ایسا نہیں کیونکہ قرآن فرماتا ہے
«یسئلونک عن الروح قل الروح من امر ربی؛ اور روح کے بارے میں تم سے سوال کرتے ہیں کہو کہ روح [امر] فرمان پروردگار میں سے ہے اور تمھیں قلیل علم دیا گیا ہے»(اسراء، 85).
انسان شناسی کے ماہر علما کا کہنا ہے کہ ہم جسقدر کوشش کریں، ہمارا جھل اسی قدر بڑھتا ہے اور حتی مقالے لکھے جاتے ہیں اس عنوان سے کہ " انسان ناشناختہ مخلوق"
انسان کمترین درجوں سے بالا ترین درجوں کی جانب سے سفر کرسکتا ہے اور یہ صرف عقل کی مدد سے ممکن نہیں، لہذا قرآن سے رجوع کیے بغیر ایسا ممکن نہیں کیونکہ عقلی بنیادوں پر دیے گیے کافی جوابات درست ثابت نہ ہوسکے ہیں۔/