
ایکنا لبنان نیوز کے مطابق تین دسمبر کو معذوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے ، یہ ایک عالمی دن ہے اور سال 1992 کو اقوام متحدہ نے منظور کرلیا تھا ، اس کا مقصد معذوروں کی حمایت اور حقوق کو اجاگر کرنا ہے اور اس سال اس دن کو " مشترکہ عملی اقدام، معذوروں کی حمایت" کے عنوان سے منایا گیا۔
اسلام میں معذور افراد پر خاص توجہ دی گیی ہے، اسلام میں اسکی وجہ صرف یہ نہیں کہ انکے والدین کی صحت کے أصول میں کوئی غلطی رہ گیی ہے بلکہ یہ خدا کی جانب سے امتحان ہوسکتا ہے، قرآن میں تاکید کی جاتی ہے کہ ذہنی طور پر کمزور ان افراد کے ساتھ مہربانی کی جائے اور انکی مدد ضروری ہے۔
حضرت محمد(ص) کی سیرت میں بھی ان افراد کی مدد اور احترام کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔
صدر اسلام میں ان افراد کے لیے بیت المال سے مدد کی جاتی تھی اور یہ زکات کے مال میں سے دیا جاتا تھا۔
قرآنی راستہ، بچپن سے استادی تک
فاطمه اپنی تعارف میں کہتی ہے: جنوبی لبنان سے تعلق ہے اور پچیس سال عمر ہے اور میں سوشل آرٹ یونیورسٹی کی طالبہ ہوں۔
انکا کہنا تھا: حفظ پر پندرہ سال سے کام شروع کیا جب ایک بوڑھی نابینا حافظہ خاتون نے درس دینا شروع کیا۔
انکا کہنا تھا: ساڑھے تین سال کا عرصہ لگا اور میں نے قرآن مجید کو مکمل حفظ کرلیا اور خدا کے لطف و کرم سے اس وقت تدریس کررہی ہوں، میں ملکی اور بین الاقوامی مقابلوں میں خدمات انجام دیتی ہوں اور حصہ بھی لیتی ہوں۔
فاطمه یونس نے ایک سوال کے جواب میں کہا: ہر انسان کی کچھ خواہشات ہوتی ہیں اور میری خواہش ہے اور خدا سے چاہتا ہوں کہ میں قرانی پیغام عام کروں اور اسی طرح آروزو ہے کہ مجھے امام عصر عج سے ملاقات کا شرف حاصل ہو۔/
4185712