انڈیا؛ آسام میں نیے مسلم مخالف قانون پر پریشانی

IQNA

انڈیا؛ آسام میں نیے مسلم مخالف قانون پر پریشانی

5:19 - November 05, 2025
خبر کا کوڈ: 3519440
ایکنا: عشق سے جہاد کے عنوان سے ایک منصوبے پر آسام کے مسلمانوں میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ایکنا نیوز-  ٹی آر ٹی نے رپورٹ دی ہے کہ بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں مجوزہ قانون "عشقِ جہاد کے خلاف کارروائی" (Law Against Love Jihad)  نے تشویش پیدا کردی ہے، کیونکہ یہ قانون مبینہ طور پر مسلمانوں کو بدنام کرنے اور معاشرتی تقسیم پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ قانون والدینِ ملزم کی گرفتاری تک کی اجازت دیتا ہے، جس نے عوامی سطح پر سخت ردِعمل کو جنم دیا ہے۔

ریاستی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس قانون کو منظور کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دراصل ریاست کی مسلمان اقلیت کو نشانہ بنانے کے لیے ہے، جو آسام کی کل آبادی کا تقریباً ۳۴ فیصد ہیں۔

اس قانون کے تحت، جسے ’’عشقِ جہاد کے خلاف قانون‘‘ کا نام دیا گیا ہے، شادی کے ذریعے مذہب کی جبری تبدیلی پر عمر قید کی سزا رکھی گئی ہے اور ملزم کے والدین کو بھی گرفتار کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق، اس قانون کا مقصد مسلمان مردوں کو مجرم کے طور پر پیش کرنا اور آسام کی نازک نسلی و مذہبی ہم‌زیستی کو کمزور کرنا ہے، جو پہلے ہی مختلف نسلی کشیدگیوں سے دوچار ہے۔

یہ اعلان ۲۲ اکتوبر کو کیا گیا، جس میں اس بل کو دیگر بلوں کے ساتھ ضم کیا گیا ہے، جن میں کثرتِ ازدواج (پولیگیمی) اور قبائلی زمینوں کے حقوق جیسے موضوعات بھی شامل ہیں۔ تاہم "عشقِ جہاد" سے متعلق شق ہی سب سے زیادہ عوامی غصے کا باعث بنی ہے۔

ریاستی وزیرِ اعلیٰ ہیمانتا بسوا سرما جو وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی دائیں بازو کی بی جے پی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، نے اس قانون کو ’’تاریخی‘‘ قرار دیتے ہوئے اسے ’’سماجی ہم‌زیستی کا محافظ‘‘ بتایا۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان بیانات کے پیچھے انتہاپسندانہ سیاست کارفرما ہے، جو مسلمانوں کو ’’آسام کی مقامی شناخت‘‘ کے لیے خطرہ کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، ۲۰۲۶ کے ریاستی انتخابات کے قریب آنے کے ساتھ، اس قانون کا مقصد عوامی قطب‌بندی (polarization) کو بڑھانا اور سیلاب جیسی سنگین مشکلات سے عوام کی توجہ ہٹانا ہے، جو ہر سال لاکھوں لوگوں کو بے گھر کر دیتے ہیں۔

امان ودود، حزبِ مخالف کانگریس پارٹی کے ترجمان نے اس اقدام پر سخت تنقید کرتے ہوئے ٹی آر ٹی ورلڈ کو بتایا: یہ پورا معاملہ مبہم ہے۔ یہ انتہاپسند ہندوتوا تحریک کا گھڑا ہوا بیانیہ ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ جن بھارتی ریاستوں نے اس سے پہلے ایسے قوانین نافذ کیے ہیں، وہ خود بھی ’’عشقِ جہاد‘‘ کی واضح تعریف کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

ودود نے مثال کے طور پر اتر پردیش کے ۲۰۲۰ کے قانونِ تبدیلی مذہب کا حوالہ دیا، جس میں ایسے مبینہ جرائم کے لیے ۱۰ سال تک قید کی سزا مقرر کی گئی تھی۔ ان کے مطابق، آسام کا موجودہ مجوزہ قانون اس سے بھی زیادہ انتہاپسندانہ ہے، کیونکہ اس میں عمر قید اور والدین کی گرفتاری تک کی شق شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی جگہ مذہب کی تبدیلی جبری ہو تو اس کا ازالہ موجودہ قوانین کے تحت ہونا چاہیے، نہ کہ ایسے تفرقہ‌انگیز قوانین کے ذریعے جو انتخابات کے قریب سیاسی فائدے کے لیے لائے جا رہے ہیں۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی کی زیرِ انتظام ریاستوں میں ایسے معاملات کی کوئی قابلِ ذکر شہادت موجود نہیں کہ مسلمان مرد بڑی تعداد میں ہندو خواتین سے شادی کر کے ان کا مذہب تبدیل کروا رہے ہوں۔

آسام کے مخلوط علاقوں میں، جہاں ہندو، مسلمان اور مختلف قبائل صدیوں سے پرامن بقائے باہمی کے ساتھ رہتے آئے ہیں، اس بل کے نفاذ سے بداعتمادی، مذہبی تناؤ اور ہم‌زیستی کے بگاڑ کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

اصطلاح "عشقِ جہاد" اس دعوے پر مبنی ہے کہ مسلمان مرد ہندو خواتین کو شادی کے ذریعے فریب دے کر اسلام قبول کراتے ہیں تاکہ مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ کیا جا سکے ۔ ایک ایسا بیانیہ جسے انسانی حقوق کے ماہرین اور کئی عدالتیں بنیاد سے من گھڑت قرار دے چکی ہیں۔/

 

4314725

نظرات بینندگان
captcha