
ایکنا کی سرایوو سے رپورٹ کے مطابق، اس ترجمے کے ناشر سنٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز، سرایوو ہیں۔ اساد (اسد) دوراکوویچ، جو سرایوو نیشنل یونیورسٹی میں پروفیسر ایمیریٹس ہیں، مصر کی اکیڈمی آف سائنسز اور دمشق کی عرب اکیڈمی آف سائنسز کے بھی رکن ہیں۔ یہ ترجمہ سن 2025 کے آخری دن شائع ہوا اور سال کے آخری ایام میں ہونے والے اہم ثقافتی واقعات میں شمار کیا گیا۔
دوراکوویچ نے Radiosarajevo.ba سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: "میں نئے سال کے لیے اس سے بہتر تحفے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اس ترجمے کا پہلا ایڈیشن سن 2004 میں 7 ہزار نسخوں میں شائع ہوا تھا جو بہت عرصہ پہلے فروخت ہو چکا تھا۔ ہماری زبان میں قرآن کریم کے ہر ترجمے کی اپنی ثقافتی اور تاریخی اہمیت اور ایک خاص قدر ہے، اور ہر ترجمہ کچھ نیا اضافہ کرتا ہے۔ میرا ترجمہ دیگر تراجم کے مقابلے میں اس لحاظ سے ممتاز ہے کہ میں نے حتی الامکان اس کے مافوق الفطرت اسلوبی حسن کا کچھ حصہ منتقل کرنے کی کوشش کی ہے۔ لسانی اعتبار سے ہم جانتے ہیں کہ اصل متن ایک سادہ مگر موزوں اور مقفیٰ نثر میں ہے، جبکہ ہماری زبان میں یہ اب تک صرف ’سادہ نثر‘ میں منتقل کیا جاتا رہا ہے۔"
عربی ادب کے استاد کی حیثیت سے، دوراکوویچ کا کہنا ہے کہ انہوں نے وزن اور قافیہ کے استعمال کے ذریعے اس اسلوب اور ہیئت کا کچھ حصہ منتقل کرنے کی کوشش کی ہے، تاکہ ترجمہ ایک مقدس متن کی حیثیت سے غیر معمولی اثر رکھے۔
سرایوو نیشنل یونیورسٹی کے اس استاد نے مزید بتایا: میں نے قرآن کے آخر میں ہر سورت کے لیے قافیوں کی فہرست بھی شامل کی ہے۔ بہت سے لوگوں نے مجھ سے کہا ہے کہ جب وہ میرا ترجمہ پڑھتے ہیں تو انہیں اچانک محسوس ہوتا ہے کہ اسے بلند آواز سے پڑھنا چاہیے۔ یہ ایک مقفیٰ اور موزوں مقدس متن کی فطری ضرورت ہے۔
پہلی اشاعت کے بعد، دوراکوویچ تقریباً بیس برس تک ہر ماہِ رمضان میں اپنے ترجمے کا ازسرِنو جائزہ لیتے اور اس میں اصلاح کرتے رہے، جو ایک ممتاز لسانیات دان، مستشرق، عربی ماہر اور مترجم کی غیر معمولی لگن کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، پہلے ایڈیشن میں موجود کئی فنی اغلاط کو بھی اب درست کر دیا گیا ہے۔
اکیڈمیشن دوراکوویچ کا کہنا ہے: اس طرح کے معروف متون ہمیشہ ایک جیسے رہتے ہیں، لیکن ہم خود ایک جیسے نہیں رہتے، اسی لیے کوئی حتمی ترجمہ وجود نہیں رکھتا۔ آج میں وہ شخص نہیں ہوں جو بیس سال پہلے تھا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نئے ایڈیشن میں انہوں نے اصل متن کے مثبت پہلو پر خصوصی توجہ دی ہے، کیونکہ ماضی میں اکثر اسے منفی مفہوم میں منتقل کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا: "ہم ہمیشہ سورۂ فاتحہ کی آیت کو ’روزِ قیامت کا مالک‘ ترجمہ کرتے آئے ہیں، جبکہ اصل متن میں قیامت کا دن نہیں بلکہ ’یومِ دین‘ یعنی جزا کا دن ہے۔ یوم القیامہ قیامت کے دن کو کہا جاتا ہے۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں جنہیں میں نے اپنے نئے فہم کے مطابق اصل متن کے زیادہ قریب کر دیا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ مومنوں کو خدا سے محبت کو فروغ دینا چاہیے، نہ کہ اس کا خوف، کیونکہ محبت انسان کو متحرک کرتی ہے جبکہ خوف انسان کو غیر فعال بنا دیتا ہے۔ اسی لیے نئے ترجمے میں میں نے متن کی مثبت روح پر اصرار کیا ہے۔
بالکان کے علاقے کی بوشنیاک (مسلمان) اشرافیہ میں شمار ہونے والے دوراکوویچ نے آخر میں کہا: مجھے امید ہے کہ اس ترجمے کو مثبت پذیرائی ملے گی، اور مجھے خوشی ہے کہ میں نے اس کا دوسرا اور اصلاح شدہ ایڈیشن دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے مکمل کر لیا۔/
4326485