
ایکنا کی تانزانیا سے رپورٹ کے مطابق، شیخ علی جمعہ مایونگا 11 رجب المرجب 1447ھ کی شام، طویل عرصے تک بیماری کی تکالیف برداشت کرنے کے بعد دارالسلام میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ ان کے انتقال سے تانزانیا کے مسلمانوں اور مشرقی افریقہ میں مکتبِ اہلِ بیتؑ کے پیروکاروں کے لیے ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے۔
دارالسلام میں ایران کے ثقافتی مشن کی جانب سے جاری تعزیتی پیغام میں کہا گیا ہے:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اِنّا لِلّٰہِ وَاِنّا اِلَیْہِ رَاجِعُون
انتہائی رنج و غم کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ مشرقی افریقہ کے ممتاز مبلغ، قرآنِ کریم کے مترجم اور تانزانیا کی شیعہ برادری کے دانشورانہ معاون، شیخ علی جمعہ موئنگا طویل علالت کے بعد دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔
یہ المناک سانحہ تانزانیا اور مشرقی افریقہ کے شیعہ معاشرے اور عمومِ مسلمین کے لیے ایک عظیم نقصان ہے۔ ایران کا ثقافتی مرکز، دارالسلام، اس دردناک مصیبت پر قرآن سے محبت رکھنے والوں، ان کے شاگردوں، عقیدت مندوں اور مرحوم کے اہلِ خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتا ہے، اور مرحوم کے لیے بلندیٔ درجات اور اہلِ بیتؑ کی معیت، جبکہ پسماندگان کے لیے صبر و اجر کی دعا کرتا ہے۔
شیخ علی جمعہ مایونگا ایک معروف اسلامی عالم اور مصنف، اور مشرقی افریقہ میں مکتبِ اہلِ بیتؑ کے نمایاں مدافع تھے۔ وہ 1947ء میں تانزانیا کے علاقے تابورا، ضلع ایگونگا میں پیدا ہوئے۔ جوانی ہی سے انہیں دینی تعلیم، اسلامی مسائل میں غور و فکر اور تاریخِ اسلام پر تحقیق سے گہرا شغف تھا۔
مرحوم نے اپنی زندگی اسلامی مصادر کے گہرے مطالعے کے لیے وقف کر دی، جس کے نتیجے میں وہ عقائد، تفسیر، تاریخ اور فقہِ اسلامی کے ممتاز محققین میں شمار ہونے لگے۔
1986ء میں مومباسا (کینیا) کے علمی و تحقیقی سفر کے دوران، وہاں کے علما خصوصاً معروف محقق شیخ عبداللہ نصیر کے ساتھ مفصل مناظروں کے ذریعے وہ اہلِ بیتؑ کے پیغام سے آشنا ہوئے اور تشیع کے پیغام کو سمجھنے کے بعد مکتبِ اہلِ بیتؑ کی پیروی اختیار کی۔
تاریخِ اسلام، رسول اکرم ﷺ کے بعد قیادت کے مسئلے اور دینِ اسلام میں اہلِ بیتؑ کے مقام سے متعلق ان کی گہری تحقیقات، جو جرأت، دانائی، استقامت اور مضبوط علمی دلائل پر مبنی تھیں، نے مشرقی افریقہ کے سواحلی زبان بولنے والوں میں مکتبِ اہلِ بیتؑ کے تعارف میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کے بہت سے دلائل، جو جذبات یا تنازع کے بجائے قرآنِ کریم، معتبر احادیث اور مستند تاریخی مصادر پر مبنی تھے، اس خطے کے مسلمانوں کے لیے بالکل نئے اور مؤثر تھے۔
وہ بہت سے دینی طلبہ کے استاد، معلم اور سرپرست رہے، جو آج بھی مشرقی افریقہ میں تشیع کے مکتب کا باوقار پرچم بلند کیے ہوئے ہیں۔
مرحوم کی متعدد علمی تصانیف یادگار کے طور پر باقی رہ گئی ہیں، جن میں قرآن کا ترجمہ و تفسیر (قرآنی توکوفو)، اسلامی معاشرہ: سقیفہ کی پیداوار، اور دعائے کمیل کی تفسیر شامل ہیں۔ یہ کتابیں تانزانیا اور بیرونِ ملک دینی علوم کے طلبہ، اساتذہ اور محققین کے لیے اہم علمی مراجع کی حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔/
4326534