
ایکنا نیوز، الجزیرہ نیوز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ نیویارک کے نئے میئر زہران ممدانی نے اپنے پہلے انتظامی حکم نامے میں سابق میئر ایرک ایڈمز (2024) کے بعض انتظامی احکامات کو منسوخ کر دیا ہے۔
منسوخ کیے جانے والے احکامات میں "انتظامی حکم نمبر 60" بھی شامل ہے؛ یہ وہ حکم تھا جس کے تحت نیویارک شہر کے اداروں اور پنشن فنڈز کے ذمہ داران کو صہیونی رژیم یا اس سے وابستہ اداروں کے خلاف معاہدوں یا سرمایہ کاری میں بائیکاٹ کرنے یا سرمایہ نکالنے سے روکا گیا تھا۔
اس فیصلے میں اس پابندی کی منسوخی بھی شامل ہے جو ایرک ایڈمز نے فروری 2024 میں صہیونی رژیم کے بائیکاٹ پر عائد کی تھی۔ اسی طرح نیویارک کے نئے میئر نے “انٹرنیشنل ہولوکاسٹ ریمیمبرنس الائنس (IHRA)” کی جانب سے یہود دشمنی (اینٹی سیمٹزم) کی اُس تعریف کے نفاذ کو بھی روک دیا ہے جس کے تحت اسرائیل پر بعض تنقیدی آرا کو یہود دشمنی کے زمرے میں شامل کیا جاتا تھا۔
ممدانی نے اعلان کیا کہ یہ اقدام شہری انتظامیہ میں ایک نئے دور کے آغاز کے لیے کیا گیا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ ان کی حکومت کو بغیر کسی امتیاز کے نیویارک کے تمام باشندوں کی خدمت کرنی چاہیے۔
فلسطینیوں کے حقوق کے حامیوں نے اس فیصلے کو متوازن خارجہ پالیسی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔
اسی طرح، کونسل آن امریکن-اسلامک ریلیشنز (CAIR) کی نیویارک شاخ کی صدر، عفاف ناشر نے بھی ممدانی کی تعریف کی اور کہا کہ انہوں نے ایک ایسے “غیر قانونی حکم” کو منسوخ کیا ہے جو نیویارک کے شہریوں کی اسرائیلی نسل پرستی پر تنقید کرنے یا اسرائیل کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بائیکاٹ کی صلاحیت کو محدود کرتا تھا۔/
4326828