«بطلة کربلاء» روایت شجاعت زینب(س) سوگ کی کتابوں میں

IQNA

ایکنا رپورٹ؛

«بطلة کربلاء» روایت شجاعت زینب(س) سوگ کی کتابوں میں

8:22 - January 06, 2026
خبر کا کوڈ: 3519756
ایکنا: کتاب معروف مصری مصنفہ عائشہ عبدالرحمن المعروف بنت الشاطی کا ایک مایہ ناز اور یادگار علمی کام ہے جو حضرت زینبؑ کی زندگی اور کردار کے تجزیے کے لیے ایک اہم اور مستند ماخذ شمار کی جاتی ہے۔ یہ تصنیف محض ایک سادہ سوانح عمری نہیں، بلکہ ایک ادبی و تاریخی تحقیق ہے۔

ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق، بنت الشاطی کی جانب سے «بطلة کربلاء» تحریر کرنے کا بنیادی مقصد حضرت زینبؑ کی شخصیت کے بارے میں زاویۂ نگاہ کو بدلنا تھا۔ روایتی بیانیوں میں عموماً حضرت زینبؑ کو ایک غم زدہ اور مصیبت رسیدہ خاتون کے طور پر پیش کیا گیا ہے، لیکن بنت الشاطی مضبوط تاریخی اور ادبی تجزیوں کی بنیاد پر اس بات پر زور دیتی ہیں کہ زینب کبریٰؑ محض ایک مظلوم کردار نہیں بلکہ قیامِ کربلا کی قہرمان اور اس تحریک کی بنیادی تکمیل کرنے والی شخصیت تھیں۔

عائشہ عبدالرحمن (بنت الشاطی) کا تعارف

بنت الشاطی (Dr. Bint al-Shati)، دراصل عائشہ عبدالرحمن کا قلمی نام ہے، جو مصر کی ممتاز مصنفہ، محققہ اور مفکرہ تھیں۔ وہ 6 نومبر 1913ء کو شمالی مصر کے شہر دمیاط میں پیدا ہوئیں۔ جس سماجی اور علمی ماحول میں عائشہ عبدالرحمن نے پرورش پائی، اس نے ان کی فکری تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے والد جامعہ الازہر کے عالم تھے، جن کی نگرانی میں انہیں اسلامی طرزِ تربیت حاصل ہوئی اور کم عمری ہی سے فقہی اور ادبی مطالعات سے گہرا شغف پیدا ہوا۔

«بطلة کربلاء» روایت قهرمانی زینب(س) از لابه‌لای سوگنامه‌ها

انہوں نے اپنے شہر کے قرآنی مدرسے میں قرآنِ کریم حفظ کیا اور 1348ھ/1929ء میں اسی دارالقرآن سے تدریس کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا، جس میں پورے مصر میں اوّل پوزیشن حاصل کی۔

انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم جاری رکھتے ہوئے 1369ھ/1950ء میں عربی ادب میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

بعد ازاں انہوں نے تدریس کے شعبے سے صحافت کا رخ کیا اور معروف مصری ادیبہ میّ زیادہ کے بعد دوسری خاتون بنیں جنہوں نے مصری اخبارات، بالخصوص الاہرام، کے لیے باقاعدہ تحریریں لکھیں۔

علمی و ادبی خدمات

بنت الشاطی کی بیشتر تصانیف قرآنی مطالعات، ادبی تفسیرِ قرآن اور اسلام کی عظیم خواتین کی سوانح پر مشتمل ہیں۔ قرآنِ کریم کی تفسیر میں ان کا اسلوب نہایت جدت پسند تھا، جس میں وہ آیات کے ادبی، بلاغی اور معنوی پہلوؤں کا گہرائی سے جائزہ لیتی تھیں۔

 

«بطلة کربلاء» روایت قهرمانی زینب(س) از لابه‌لای سوگنامه‌ها

 

ان کی مشہور تصانیف میں شامل ہیں:

«التفسیر البیانی للقرآن الکریم» (قرآن کی ادبی و بلاغی تفسیر)

«نساء النبی» (ازواجِ رسول ﷺ کی زندگی کا مطالعہ)

«بطلة کربلاء (زینب بنت علی)» (حضرت زینبؑ کی سوانح)

«أم النبی» (حضرت آمنہؑ، والدۂ رسول ﷺ کی زندگی)

اگرچہ ان کی تصانیف کی تعداد خاصی زیادہ ہے، تاہم یہاں حضرت زینبؑ کے یومِ وفات کی مناسبت سے ان کی اہم کتاب «بطلة کربلاء» (بانوی قہرمانِ کربلا) کا خصوصی تعارف پیش کیا جا رہا ہے۔

 

«بطلة کربلاء» روایت قهرمانی زینب(س) از لابه‌لای سوگنامه‌ها

ادبی زاویے سے بانوی قہرمانِ کربلا

کتاب «بطلة کربلاء» آج بھی حضرت زینبؑ کی زندگی اور واقعۂ عاشورا کے بعد ان کے کردار کے تجزیے کے لیے ایک بنیادی اور معتبر حوالہ سمجھی جاتی ہے۔ یہ کتاب محض ایک سوانح نہیں بلکہ ایک سنجیدہ ادبی و تاریخی تحقیق ہے جو مضبوط علمی بنیادوں کے ساتھ تاریخِ اسلام میں اس عظیم خاتون کے مقام کو واضح کرتی ہے۔

مصنفہ نے اپنے ادبی اور قرآنی تفسیر کے تخصص کو بروئے کار لاتے ہوئے حضرت زینبؑ کو صرف ایک غم زدہ بہن کے طور پر نہیں، بلکہ ایک سیاسی قائد، غیر معمولی خطیبہ اور ایسی شخصیت کے طور پر پیش کیا ہے جس نے کربلا کے بعد تاریخ کا رخ بدل دیا۔

 

«بطلة کربلاء» روایت قهرمانی زینب(س) از لابه‌لای سوگنامه‌ها

 

کتاب کی سب سے نمایاں خصوصیت حضرت زینبؑ کے خطبات کا تجزیہ ہے۔ بنت الشاطی، جو خود علمِ بلاغت اور عربی ادب کی ماہر تھیں، ابنِ زیاد اور یزید کے دربار میں دیے گئے خطبات کو محض جذباتی تقریریں نہیں بلکہ فصاحت، بلاغت اور منطقی استدلال کے شاہکار قرار دیتی ہیں۔

مصنفہ حضرت زینبؑ کو واقعۂ عاشورا کے بعد کے بحران کی مدبر منتظم کے طور پر متعارف کراتی ہیں، جنہوں نے اسیرانِ اہلِ بیتؑ کی قیادت کرتے ہوئے ظلم کے مقابلے میں حق کی صدا کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔/

 

4327073

نظرات بینندگان
captcha