
ایکنا نیوز- المدینہ نیوز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ طریقہ خاص طور پر اُن مسلمانوں کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے جو ذہنی یا جسمانی چیلنجز اور محدودیتوں کا سامنا کرتے ہیں، اور اسے جامع اسلامی تعلیم کے میدان میں ایک نمایاں کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
کتاب «اقرا سرداس» میں شامل منفرد تعلیمی طریقے بڑی تعداد میں افراد کے لیے نہایت مؤثر ثابت ہوئے ہیں، جن میں جسمانی معذوری اور ذہنی صحت کے مسائل رکھنے والے افراد کے ساتھ ساتھ معمر افراد بھی شامل ہیں۔
اَملیہ قادر نے اس بات پر زور دیا کہ یہ طریقہ کسی مخصوص طبقے تک محدود نہیں، بلکہ اسے اُن سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی اداروں میں بھی کامیابی سے نافذ کیا جا سکتا ہے جو یکساں نصابی نظام اپناتے ہیں۔
«اقرا سرداس» نہ صرف معذور افراد کی معاونت میں اہم کردار ادا کرتا ہے بلکہ نو مسلم افراد کے لیے بھی ایک عملی اور قابلِ رسائی حل فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے وہ قرآنِ کریم کی قراءت و تحریر خودمختار اور مؤثر انداز میں سیکھ سکتے ہیں۔ اس سے دین کی گہری سمجھ بوجھ اور معاشرے میں بہتر انضمام میں مدد ملتی ہے۔
اس حوالے سے اَملیہ قادر کا کہنا تھا کہ اقرا سرداس کا بنیادی مقصد کتابِ خدا کی تعلیم میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ اس طریقے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہر مسلمان، چاہے اس کی جسمانی یا ذہنی صلاحیتیں کچھ بھی ہوں، قرآن کے ساتھ اپنا تعلق قائم کر سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ افراد کو بااختیار بنا کر اور سیکھنے کے مراحل کو آسان بنا کر یہ طریقہ دنیا بھر میں اسلام کے فروغ اور اشاعت پر مثبت اور نمایاں اثرات مرتب کرے گا۔
زیادہ سے زیادہ شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے کتاب «اقرا سرداس» کا بریل (Braille) ایڈیشن بھی دستیاب ہے۔ یہ نسخہ ایسے ماہر اساتذہ کی تربیت کو ممکن بناتا ہے جو کم بینا طلبہ کے ساتھ کام کر سکیں، جس سے مخلوط تعلیمی نظام (Blended Learning) کے تصور کو تقویت ملتی ہے اور اس کے دائرۂ کار میں مزید وسعت آتی ہے۔/
4327086