
ایکنا نیوز- الامہ نیوز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ہاٹ میل کے بانیوں میں شامل سبیر بھاٹیہ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک کھلا خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے بھارت میں نسلی بنیادوں پر نفرت اور تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان، بالخصوص مسلمانوں، دلتوں، عیسائیوں اور شمال مشرقی بھارت کے عوام کے خلاف تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بھاٹیہ نے اپنے خط میں انجل چکما نامی 24 سالہ ایم بی اے کے طالب علم کے قتل کا حوالہ دیا، جو ریاست تریپورہ سے تعلق رکھتا تھا اور دہرادون میں نسلی تعصب پر مبنی ایک جھگڑے کے دوران قتل کر دیا گیا۔
انہوں نے اس واقعے کو "بھارت کی روح کے لیے ایک المیہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ چکما کو محض اس کے مختلف ظاہری حلیے کی بنا پر جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔
بھاٹیہ نے خط میں اس امر پر زور دیا کہ شمال مشرقی بھارت کے عوام، اپنی شناخت، تاریخ اور جذبات کے اعتبار سے مکمل طور پر بھارتی ہونے کے باوجود، طویل عرصے سے نسل پرستانہ حملوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے حالیہ مہینوں میں اقلیتوں کے خلاف تشدد میں اضافے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ چکما کا قتل محض ایک انفرادی واقعہ نہیں بلکہ ملک میں موجود ایک گہرے سماجی عدم توازن کی علامت ہے۔
بھاٹیہ نے بھارتی وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ نسل پرستی کے خلاف واضح اور عملی اقدامات کریں، جن میں نفرت انگیز تقاریر اور ہجوم کے تشدد کی مذمت پر مبنی ایک قومی بیان کا اجرا، اور انجل چکما کے قتل کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنانا شامل ہے۔
انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ پورے ملک میں آگاہی پروگرام شروع کیے جائیں تاکہ قومی یکجہتی کو فروغ دیا جا سکے اور بھارت کی بنیادی اقدار، یعنی تنوع اور باہمی احترام، کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔
خط کے اختتام پر بھاٹیہ نے بھارت سے اپیل کی کہ وہ اس بحران کا دیانت داری اور جرات کے ساتھ مقابلہ کرے اور اس بات پر زور دیا کہ جس ملک کا خواب عالمی قیادت کا ہو، وہاں تنوع کو کبھی بھی تشدد کی بنیاد نہیں بننا چاہیے۔/
4327432