
ایکنا نیوز- الدستور نیوز کے مطابق شیخ طارق عبدالباسط نے کہا کہ مصر میں قاریان کے میوزیم کے قیام کا منصوبہ حکومت کا ایک مثبت اور اہم قدم ہے، جسے وزارتِ اوقاف اور وزارتِ ثقافت کے تعاون سے عملی جامہ پہنایا گیا۔ ان کے مطابق یہ میوزیم اہلِ قرآن اور ان کی زندگی کی تاریخ کے ساتھ حقیقی قدردانی کا مظہر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ممتاز قاریوں کے ذاتی سامان کو جمع کر کے ایک مخصوص میوزیم میں نمائش کے لیے رکھنا، ان قاریوں کے ساتھ ایک معنوی احترام کا اظہار ہے جنہوں نے اپنی آواز سے قرآنِ کریم کی خدمت کی۔ فطری بات ہے کہ ان کی سوانحِ حیات اور ذاتی اشیا ایسے مقام پر محفوظ کی جائیں جو ان کے شایانِ شان ہو۔
طارق عبدالباسط نے کہا کہ حکومت، بالخصوص صدارتِ جمہوریہ، وزارتِ ثقافت اور اس عظیم منصوبے سے وابستہ تمام افراد شکریے کے مستحق ہیں۔ یہ ایک اہم ثقافتی اور مذہبی منصوبہ ہے جو مصر کے اندر اور باہر کے عوام کو عظیم قاریوں کی زندگی سے آگاہ ہونے اور ان کے حالاتِ زندگی کو قریب سے جاننے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
استاد عبدالباسط عبدالصمد کے صاحبزادے نے قاریوں کے اہلِ خانہ کی جانب سے ان کے ذاتی سامان عطیہ کرنے کے حوالے سے کہا کہ ان اشیا کی بہت زیادہ روحانی قدر ہونے کی وجہ سے یہ فیصلہ خاندانوں کے لیے آسان نہیں تھا، تاہم ایک ذمہ دار ادارے کی موجودگی اور ان اشیا کے محفوظ اور باوقار انداز میں رکھے جانے کی یقین دہانی ہی اس پر رضامندی کی اصل وجہ بنی۔
انہوں نے کہا کہ یہ اشیا برسوں تک خاندان کے افراد اور قاریوں سے محبت رکھنے والوں کے پاس بطور یادگار محفوظ رہیں؛ کسی کے پاس تصاویر تھیں، کسی کے پاس آڈیو ریکارڈنگز یا دیگر ذاتی سامان۔ لیکن اب انہیں ایک سرکاری میوزیم میں نمائش کے لیے رکھنے سے ان کا تحفظ آئندہ نسلوں کے لیے یقینی ہو گیا ہے اور عوام ان عظیم قاریوں کی زندگی کی تاریخ سے واقف ہو سکیں گے۔
شیخ طارق عبدالباسط نے دارالقرآن اور مصر کے قاریان میوزیم کے دورے کے دوران اپنے احساسات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک نہایت خوشگوار تجربہ تھا اور اس مقام کی کیفیت ایسی ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا: جب میں دارالقرآن میں داخل ہوا تو ہر جانب دیواروں پر نقش قرآنی آیات دیکھیں اور مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں جنت کے کسی باغ میں ہوں۔ میں حیرت اور خشوع میں ڈوبا ہوا تھا، اور ساتھ ہی سکون اور خوشی بھی محسوس کر رہا تھا، کیونکہ یہ ایک عظیم مذہبی اور ثقافتی عمارت ہے جس پر ہر مسلمان کو فخر ہونا چاہیے۔
عبدالباسط عبدالصمد کے صاحبزادے نے کہا کہ وہ ہمیشہ اس عظیم ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے کسی مقام کے خواہش مند تھے، لیکن انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ یہ منصوبہ اس قدر خوبصورتی اور نفیس انداز میں پایۂ تکمیل تک پہنچے گا۔ ان کے بقول، یہ مقام عالمِ اسلام کی عظیم ترین مذہبی عمارتوں کے برابر ہے اور اس بات کا واضح پیغام دیتا ہے کہ مصر آئندہ بھی عظیم قاریوں اور حافظِ قرآن کا مرکز بنا رہے گا۔
واضح رہے کہ مصر میں قاریانِ قرآن کا پہلا میوزیم حال ہی میں مصر کے وزیرِ اوقاف اسامہ الازہری اور وزیرِ ثقافت احمد فؤاد ہنو کی موجودگی میں افتتاح کیا گیا، جہاں دونوں وزرا نے میوزیم کے مختلف حصوں کا دورہ بھی کیا۔
اس میوزیم میں مصر کے 11 ممتاز قاریوں کے ذاتی آثار رکھے گئے ہیں، جن میں محمد رفعت، عبدالفتاح شعشاعی، طہ الفشنی، مصطفیٰ اسماعیل، محمود خلیل الحصری، محمد صدیق منشاوی، ابوالعینین شعی شع، محمود علی البناء، استاد عبدالباسط عبدالصمد، محمد محمود طبلاوی اور احمد الرزیفی شامل ہیں۔ ان قاریوں کے اہلِ خانہ بھی میوزیم کے دورے کے موقع پر موجود تھے۔/
4327380