
ایکنا نیوز- خبر رساں ایجنسی معا نے لکھا ہے کہ پپ گوارڈیولا، مانچسٹر سٹی کے ہسپانوی ہیڈ کوچ، نے ایک بار پھر مسئلۂ فلسطین کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اور دنیا سے بے گناہوں کی حمایت میں عملی اقدام کی اپیل کر کے نہ صرف فٹبال شائقین بلکہ کھیل کی دنیا سے باہر کے افراد کی بھی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
گوارڈیولا کھیلوں کی دنیا کی اُن معروف شخصیات میں سے ہیں جو مسلسل فلسطین کی حمایت کرتے رہے ہیں اور غزہ کے عوام کے خلاف اسرائیلی جنگ پر احتجاج کرتے آئے ہیں۔ وہ متعدد مواقع پر اپنے مؤقف کا کھلے اور واضح انداز میں اظہار کر چکے ہیں۔
گوارڈیولا نے شہر بارسلونا میں ایک فلاحی مہم کے دوران شرکت کی، جہاں انہوں نے انسانی مسائل سے وابستہ حامیوں اور دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک متاثرکن خطاب کیا۔ اس خطاب میں انہوں نے فلسطین میں ہونے والے واقعات پر بہت سے لوگوں کی بے حسی اور لاتعلقی کی شدید مذمت کی۔
مانچسٹر سٹی کے اس کوچ کی تقریر کو سوشل میڈیا پر بھرپور پذیرائی ملی۔ انہوں نے کہا تھا: خوش آمدید، السلام علیکم… گزشتہ دو برسوں کے دوران جب میں سوشل میڈیا یا ٹیلی ویژن پر کسی بچے کی تصویر دیکھتا ہوں جو خود ویڈیو بنا کر التجا کے انداز میں پوچھ رہا ہوتا ہے کہ اس کی ماں کہاں ہے جو ملبے تلے دب چکی ہے، اور وہ خود ابھی تک یہ نہیں جانتا، تو مجھ پر کیا گزرتی ہے؟
انہوں نے مزید کہا تھا: جب میں ایسے مناظر دیکھتا ہوں تو میں ہمیشہ خود سے پوچھتا ہوں کہ وہ بچہ کیا سوچ رہا ہوگا؟ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے انہیں تنہا چھوڑ دیا ہے، وہ لاوارث اور فراموش کر دیے گئے ہیں۔
مانچسٹر سٹی کے ہیڈ کوچ نے فلسطینی عوام کے بارے میں خاموشی اور بے حسی کی مذمت کرتے ہوئے کہا: میں ہمیشہ یہ تصور کرتا ہوں کہ وہ بچہ پوچھ رہا ہے: آپ کہاں ہیں؟ آئیے اور ہماری مدد کیجیے۔ لیکن ہم نے ابھی تک ایسا نہیں کیا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اقتدار کے مالک بزدل ہیں؛ کیونکہ وہ بے گناہ نوجوانوں کو بے گناہ لوگوں کو قتل کرنے کے لیے بھیجتے ہیں۔ یہ بزدلوں کا کام ہے۔
گوارڈیولا نے فلسطینی عوام کے حوالے سے خاموشی اور بے حسی کے رجحان پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ہمیں ایک قدم آگے بڑھانا ہوگا۔ ہماری محض موجودگی بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔
انہوں نے دنیا سے اپیل کی کہ وہ منصفانہ انسانی مسائل کے ساتھ کھڑی ہو اور مظلوم عوام کی حمایت کرے۔ ان کا کہنا تھا: ہمیں نظریں چرا کر کہیں اور نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ ہمیں عملی شرکت کرنی چاہیے اور یہ دکھانا چاہیے کہ ہم فطری طور پر کمزوروں کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس معاملے میں فلسطین ہے۔ لیکن بات صرف فلسطین تک محدود نہیں، بلکہ تمام انسانی مسائل اس میں شامل ہیں۔ یہ فلسطین کے لیے بھی بیان ہے اور انسانیت کے لیے بھی۔
قابلِ ذکر ہے کہ گوارڈیولا اس سے قبل بھی اسپین کی ایک یونیورسٹی میں اسی نوعیت کی تقریر کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے اور فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔/
4331148