
ایکنا نیوز- Morocco World News نیوز کے مطابق وزارتِ اوقاف نے کہا ہے کہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی مساجد کی مکمل تیاری کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
مراکش کے وزیرِ برائے مذہبی امورِ احمد توفیق نے بتایا کہ وزارتِ اوقاف و امورِ اسلامی نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنی تدابیر مضبوط کی ہیں تاکہ نمازی رمضان کی عبادات پُرسکون اور موزوں حالات میں ادا کر سکیں۔
پارلیمنٹ (مجلسِ عوام) میں مساجد کی توسیع اور تزئین و آرائش سے متعلق سوالات کے جواب میں توفیق نے کہا کہ وزارت ملک بھر کی مساجد کی نگہداشت، بہتری اور ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
ان اقدامات میں 902 مساجد میں نئے قالین بچھانا، صفائی کا سامان فراہم کرنا اور بڑے پیمانے پر صفائی مہمات کا انتظام شامل ہے۔ اس کے علاوہ 280 مساجد کے لیے سیکیورٹی اور صفائی کی خدمات کے معاہدے کیے گئے ہیں، جن کی مجموعی لاگت 40.5 ملین مراکشی درہم ہے۔
وزارت نے مساجد کے اندر سہولتوں میں بہتری اور اطراف کے علاقوں کی ترقی کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں، جن میں بعض مراکز میں شمسی توانائی سے چلنے والے واٹر ہیٹرز کی تنصیب اور بلا تعطل پانی و بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانا شامل ہے۔ وزیر کے مطابق، ان کوششوں کا مقصد مساجد کے دینی اور سماجی کردار کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے سماجی زندگی میں مساجد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وزارت عمارتوں کی حالت کی نگرانی، حفاظتی معیار کو یقینی بنانے، بند کی گئی مساجد کی بحالی اور انہیں نمازیوں کے استقبال کے لیے تیار کرنے کا عمل مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔
سال 2010 میں مساجد کی بحالی کے پروگرام کے آغاز کے بعد سے 2069 بند مساجد کی مرمت و بحالی کی جا چکی ہے، جس پر مجموعی طور پر 3.61 ارب مراکشی درہم خرچ ہوئے۔ اس کے علاوہ 553 مساجد اس وقت زیرِ مرمت ہیں، جن پر 1.16 ارب مراکشی درہم کے کام ہو چکے ہیں، جبکہ 176 مساجد منصوبہ بندی اور منظوری کے مرحلے میں ہیں، جن کے لیے 193 ملین مراکشی درہم کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
وزیر نے مزید بتایا کہ 1458 بند مساجد ابھی بھی بحالی کی محتاج ہیں، جن پر تقریباً 2 ارب مراکشی درہم خرچ ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ہر سال تقریباً 230 مساجد معمول کے معائنوں کے بعد جو علاقائی حکام کی نگرانی میں کیے جاتے ہیں، عارضی طور پر بند کر کے جانچ کے عمل سے گزاری جاتی ہیں۔/
4330873