
ایکنا نیوز- امارات لیکس کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک تحقیق میں چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تحقیق نے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ ایک "ہم آہنگ ڈیجیٹل نظام" کے تحت یورپ میں مسلمانوں کے خلاف اسلاموفوبیا پر مبنی بیانیے کی تیاری اور اس کے فروغ کے لیے ایک وسیع مہم چلائی جا رہی ہے۔ یہ نظام سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ایک بڑے نیٹ ورک کے ذریعے سرگرم ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے روابط ابوظبی سے ہیں، اور یہ مغرب میں انتہا پسند دائیں بازو کی شخصیات، جماعتوں اور تحریکوں کے ساتھ واضح ہم آہنگی کے ساتھ کام کرتا ہے۔
تحقیق اس عمل کو ایک وسیع تر تناظر میں "ڈیجیٹل جنگ" کا حصہ قرار دیتی ہے، جو محض میڈیا اثر و رسوخ تک محدود نہیں بلکہ عوامی بیانیے کی تشکیلِ نو، فیصلہ سازوں پر دباؤ ڈالنے اور بالآخر عملی پالیسیوں اور اقدامات کو متاثر کرنے تک پھیلتی ہے۔
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ تحقیق کے مطابق یورپ میں اسلاموفوبیا کوئی خود رو یا عوامی جذبات کا فطری اظہار نہیں، بلکہ ایک منظم اور منصوبہ بند مہم کا نتیجہ ہے۔ یہ مہم مختلف شکلوں میں یکساں پیغامات کی بار بار ترویج اور مربوط مواد کے فروغ پر انحصار کرتی ہے، جس کے ذریعے زمینی حقائق کی ایک مسخ شدہ تصویر پیش کی جاتی ہے۔
تحقیق کے مطابق اس مہم کا مقصد یورپ میں ہر اسلامی سرگرمی کو اخوان المسلمون سے جوڑنا، اور مساجد و اسلامی اداروں کو "انتہاپسندی کے مراکز" اور سیکیورٹی خطرات کے طور پر پیش کرنا ہے۔ اسے یورپ میں مسلمانوں کے خلاف جبر، نگرانی اور ہراسانی کی پالیسیوں کو جائز قرار دینے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔
اس تحقیق میں اس ڈیجیٹل نیٹ ورک کی سرگرمیوں اور یورپ میں انتہا پسند دائیں بازو کے کارکنوں اور جماعتوں کی قیادت میں چلنے والی مہمات کے درمیان نمایاں ہم آہنگی بھی ظاہر کی گئی ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے کے مواد کو باقاعدہ طور پر پھیلاتے رہے؛ اس نیٹ ورک سے وابستہ اکاؤنٹس دائیں بازو کی تقاریر اور بیانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے تھے، جبکہ وہ گروہ انہی بیانیوں کو روایتی میڈیا اور پارلیمانوں میں دوبارہ دہراتے تھے۔
تحقیق کے مطابق، یورپ میں مسلمانوں کے خلاف شائع ہونے والے مواد کا تقریباً 98 فیصد جعلی اور من گھڑت تھا۔ یہ شرح واضح طور پر اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ کوئی معمول کی سماجی بحث نہیں، بلکہ منظم ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے عوامی رائے کو متاثر اور گمراہ کرنے کا ایک باقاعدہ عمل ہے۔/
4331112