
ایکنا نیوز- البوابہ نیوز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس اسلامی کانفرنس میں دنیا بھر سے ممتاز علماء، مختلف اسلامی مکاتبِ فکر اور مذاہب کے قائدین و نمائندگان کے علاوہ دانشور، مفکرین اور ثقافتی شخصیات شرکت کریں گی۔ یہ کانفرنس مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کی سرپرستی میں اور شیخ الازہر ڈاکٹر احمد الطیب کی موجودگی میں منعقد ہوگی۔
کانفرنس کے انعقاد کا مقصد اسلامی مکاتبِ فکر اور مذاہب کے درمیان علمی تبادلے کی بنیادوں کو مضبوط کرنا، تاریخی اور معرفتی پس منظر کا تجزیہ کرتے ہوئے باہمی غلط فہمیوں اور منفی تصورات کی اصلاح کرنا، اور سب کے لیے منصفانہ و عادلانہ حقائق کی تشکیل میں مدد دینا ہے۔
شیخ الازہر احمد الطیب نے اس بات پر زور دیا کہ اس اہم بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی مصر کے ذمے اس عزم کا اظہار ہے کہ وہ اسلامی امت کی وحدت اور یکجہتی کے لیے پُرعزم ہے، خصوصاً اُن چیلنجز کے مقابلے میں جن کا مقصد عالمِ اسلام کے مختلف حصوں، مکاتبِ فکر اور متنوع مذاہب کے درمیان اختلاف اور تفرقہ پیدا کرنا ہے۔
یہ کانفرنس ایک مسلسل علمی و ثقافتی کوشش کا تسلسل ہے، جس کا آغاز نومبر 2022 میں شیخ الازہر کی عالمی اپیل سے ہوا تھا۔ اس کا انعقاد ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسلامی امت کے مختلف اجزا کے درمیان باہمی افہام و تفہیم اور تعاون کی ثقافت کو فروغ دینے، منطقی مکالمے کو بنیادی حکمتِ عملی کے طور پر اپنانے، تفرقے اور ابہام کی وجوہات سے نمٹنے اور مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔
صدر عبدالفتاح السیسی کی سرپرستی میں اس کانفرنس کا انعقاد عالمِ اسلام کے مسائل کی حمایت، مکالمے کے فروغ اور امتِ مسلمہ کی وحدت کے لیے مصر کے تاریخی اور مرکزی کردار کی توثیق بھی کرتا ہے۔
واضح رہے کہ شورائے حکمائے مسلمان ایک آزاد بین الاقوامی ادارہ ہے جو 2014 میں قائم ہوا، اور اس کا مرکزی دفتر ابوظبی میں واقع ہے۔ یہ ادارہ امن، مکالمے اور انسانی بقائے باہمی کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اس کی سربراہی شیخ الازہر احمد الطیب کے پاس ہے، جبکہ اس کے اراکین میں عالمِ اسلام کے ممتاز علما، دانشور اور بااثر شخصیات شامل ہیں جو اپنی دانائی، اعتدال پسندی اور فکری خودمختاری کے باعث پہچانی جاتی ہیں اور اپنی اپنی معاشرتی برادریوں میں معتبر مقام رکھتی ہیں۔/
4331157