
ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق، مصری قاری استاد عبدالفتاح طاروطی نے روزنامہ الاخبار المسائی سے گفتگو میں کہا کہ وہ عمومی طور پر ملکی اور بین الاقوامی قرآنی مسابقات کے انعقاد کے حامی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ یہ مقابلے کتابِ الٰہی کی خدمت کے ساتھ ساتھ نئی نسل خصوصاً نوجوانوں کو قرآن سے وابستگی، اس کے حفظ، تلاوت اور تدبر کی جانب راغب کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ قرآنی مسابقات میں شرکت حافظِ قرآن کے لیے بے شمار فوائد رکھتی ہے، جن میں سب سے اہم اپنے معیار کو برقرار رکھنا اور خود اعتمادی میں اضافہ ہے، نیز یہ عمل حافظ کو مسلسل حفظ اور قرآنِ کریم کے دہرائے میں مصروف رکھتا ہے۔
طاروطی نے واضح کیا کہ یہ مسابقات آواز کی پختگی اور قواعدِ تجوید پر عبور حاصل کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں، اور یہ سب کچھ اس انداز میں ہوتا ہے جو کلامِ الٰہی کی عظمت اور تقدس کے شایانِ شان ہو۔
اس ممتاز مصری قاری نے کہا کہ قرآنی مسابقات محض ایک مقابلہ نہیں ہوتیں بلکہ یہ ایک تعلیمی اور روحانی ماحول فراہم کرتی ہیں، جو ذمہ داری، محنت اور استقامت کے جذبے کو فروغ دیتا ہے اور ایسی باشعور قرآنی نسل کی تربیت میں مددگار بنتا ہے جو خوش الحانی اور مہارت کے ساتھ قرآن کے پیغام کو آگے پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
عبدالفتاح الطاروطی، مصر کے صوبہ الشرقیہ سے تعلق رکھنے والے ممتاز قاری اور اتحادِ قراء قرآنِ مصر کے نائب صدر ہیں۔ وہ 1965ء میں الزقازیق کے نواحی گاؤں طاروط میں پیدا ہوئے۔ جب وہ تین برس کے تھے تو ان کے والد نے انہیں قرآنِ کریم کے حفظ کے لیے گاؤں کے مکتب میں داخل کروایا۔
انہوں نے 1996ء میں کیلیفورنیا (امریکہ) کے شہر اوکلینڈ کے اسلامی مرکز کی دعوت پر قرآنی سفر کیا، جبکہ 2000ء میں اسپین میں مرکزِ اسلامی ملک خالد میں ماہِ مبارک رمضان کی احیائی تقریبات میں شرکت کے ذریعے بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔
طاروطی نے اپنی زندگی اسلامی تعلیمات کے فروغ کے لیے وقف کر رکھی ہے، اور قرآنِ کریم کی خدمت میں ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں جامعہ البنوریہ پاکستان کی جانب سے انہیں اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازا گیا۔
اسی طرح روسی فیڈریشن کے مسلمانوں کے دینی امور کے ادارے نے ماسکو میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی قرآنی مسابقات کی اختتامی تقریب میں شیخ عبدالفتاح الطاروطی کو قرآنی شخصیتِ سال کے اعزاز سے نوازا، جسے انہوں نے اپنے لیے باعثِ فخر قرار دیا۔/
4331280