
ایکنا نیوز- رشیا الیوم نیوز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ الازہر نے مصر کی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان توہین آمیز آڈیو کلپس پر ردِعمل دیا ہے جنہوں نے عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کیا اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے مطالبات کو جنم دیا۔
الازہر کے الیکٹرانک فتاویٰ مرکز نے اپنے بیان میں کہا: نبیِ اسلام ﷺ کے خلاف حالیہ توہین آمیز گانے نہ تو کوئی فنّی تخلیق ہیں، نہ رائے کے اظہار کی کوئی صورت اور نہ ہی نام نہاد آزادی کے زمرے میں آتے ہیں؛ بلکہ یہ صریح زیادتی، اخلاقی و فکری پستی، اور انتشار و انتہاپسندی کے فروغ کی مثال ہیں، جو انسانی اور قانونی ذمہ داری کے بنیادی اصولوں سے صریحاً متصادم ہیں۔
الازہر نے زور دیا کہ رسولِ خدا ﷺ کی توہین ایک قابلِ مذمت جرم ہے، جو مسلمانوں کے مقدس عقائد اور جذبات پر کھلا حملہ اور فتنہ، نفرت اور انتہاپسندی کو جان بوجھ کر بھڑکانے کے مترادف ہے۔
بیان میں الازہر نے ان گستاخ عناصر پر حیرت کا اظہار کیا جو آزادیِ اظہار یا فنّی جرأت جیسے جھوٹے نعروں کے پیچھے چھپتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہ کھلی جارحیت، بے قدر اشتعال انگیزی اور شرمناک تمسخر میں ملوث ہیں—ایسی حرکتیں جن کی نہ کوئی فکری قدر ہے، نہ علمی مواد اور نہ ہی کوئی انسانی پیغام؛ بلکہ انہیں صرف اخلاقی فساد اور تہذیبی زوال کی علامت قرار دیا جا سکتا ہے۔
بیان کے ایک اور حصے میں کہا گیا ہے کہ الازہر ذمہ دار اداروں اور عدالتی نظام کے کردار پر زور دیتا ہے تاکہ ایسے اقدامات کا خاتمہ کیا جائے، رسولِ اکرم ﷺ کی توہین کرنے والوں کو روکا جائے، معاشرے کو نفرت انگیزی سے محفوظ رکھا جائے، ایسے مواد کی تیاری، اشاعت، ترویج اور تقسیم کے ذمہ داروں کو جواب دہ بنایا جائے، اور ہر اس موسیقی، بصری یا ڈیجیٹل مواد کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے قانونی اور تکنیکی اقدامات کیے جائیں جس میں حضرت محمد ﷺ کی توہین شامل ہو۔
الازہر نے مزید کہا کہ ان توہین آمیز حرکات کا سب سے مؤثر جواب دینِ محمدی ﷺ سے مضبوط وابستگی، آپ ﷺ کی سیرت کی پیروی، اور عدل و رحمت کے ذریعے رسولِ خدا ﷺ کے اخلاق کو لوگوں کی زندگیوں میں مجسم کرنا ہے۔
حال ہی میں مصر میں سوشل میڈیا صارفین نے ایسی پوسٹس شیئر کیں جن میں بتایا گیا کہ عمر کوشا نامی شخص نے معروف مذہبی نعتوں اور قصائد کے کلمات مسخ کر کے سنگین مذہبی خلاف ورزیاں کیں اور انہیں حضرت محمد ﷺ کی شان میں توہین آمیز الفاظ سے بدل دیا۔
ان فائلوں کے وسیع پیمانے پر پھیلنے کے بعد عوامی احتجاج میں شدت آ گئی، اور ٹک ٹاک اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز پر لاکھوں افراد نے انہیں شیئر کیا۔ اس صورتحال نے ہزاروں صارفین کو فوری طور پر متعلقہ حکام سے مطالبہ کرنے پر مجبور کیا کہ توہین آمیز مواد حذف کیا جائے، متعلقہ اکاؤنٹس بند کیے جائیں اور توہینِ مذہب سے متعلق قوانین کے تحت ذمہ داروں کے خلاف ضروری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔/
4331454