مانچسٹر کے فین کے لیے منفرد رمضان؛ اردن میں فلسطینی پناہ گزین سے ملاقات

IQNA

مانچسٹر کے فین کے لیے منفرد رمضان؛ اردن میں فلسطینی پناہ گزین سے ملاقات

12:49 - February 03, 2026
خبر کا کوڈ: 3519892
ایکنا: انگلش فٹ بال کلب مانچسٹر یونائیٹڈ کے حامی فلسطینی مہاجرین کی حمایت کے لیے رمضان میں اردن کا سفر کریں گے۔

ایکنا نیوز- ہائیفن آن لائن نیوز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مانچسٹر یونائیٹڈ کے مسلم سپورٹرز کلب کے ارکان، ماہِ مبارک رمضان کی آمد سے قبل مغربی ایشیا میں واقع ملک اردن کے سفر کی تیاری کر رہے ہیں۔

یہ افراد ایک فلاحی اور انسانی اقدام کے تحت اردن میں قائم فلسطینی مہاجر کیمپوں میں مقیم خاندانوں سے ملاقات کریں گے اور وہاں حمایتی اور کھیلوں سے متعلق سرگرمیوں کا اہتمام کریں گے۔ یہ تین روزہ سفر فروری کے اواخر میں انجام پائے گا اور اس میں فلسطینی مہاجرین کے دو بڑے کیمپ شامل ہوں گے، تاہم سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے ہیں۔

اس دورے کے دوران، مانچسٹر یونائیٹڈ کے مسلم حامی مہاجر کیمپوں کی ٹیموں کے ساتھ دو دوستانہ فٹ بال میچز کھیلیں گے، عوامی عطیات کو براہِ راست خاندانوں میں تقسیم کریں گے، مہاجرین کے ساتھ افطار کریں گے اور بچوں، بالخصوص یتیم بچوں کے لیے فٹ بال کی تربیتی سرگرمیاں منعقد کریں گے۔ اس گروپ میں یوفا سے تصدیق شدہ کوچ بھی شامل ہے جو یتیم بچوں کے لیے فٹ بال ٹریننگ کی ذمہ داری سنبھالے گا۔

آصف محمود، مانچسٹر یونائیٹڈ کے مسلم سپورٹرز کلب کے صدر، نے اس اقدام کی سماجی ذمہ داری کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ہم اپنی حیثیت اور پلیٹ فارم سے آگاہ ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ ہمیں صرف فٹ بال دیکھنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس سے بڑھ کر بھی کچھ کرنا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ برطانیہ میں قائم فلاحی ادارے «ایکشن فار ہیومینٹی» کے تعاون سے انجام دیا جا رہا ہے، جس کا انتخاب اردن میں فلسطینی مہاجر کیمپوں میں میدانی موجودگی اور مضبوط روابط کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد فلسطینی مہاجرین کی انسانی وقار کا تحفظ ہے، اسی لیے امداد نقد اور براہِ راست خاندانوں کے حوالے کی جائے گی تاکہ وہ خود اپنی ضروریات کے بارے میں فیصلہ کر سکیں۔

آصف محمود نے اس سفر کی جذباتی دشواریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: فٹ بال ان کے تمام مسائل حل نہیں کر سکتا، لیکن یہ رابطے، ہمدردی اور ایک دیرپا انسانی ورثہ قائم کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

ان کے مطابق، سفر کے تمام اخراجات شرکاء خود برداشت کریں گے اور اس نوعیت کا یہ پروگرام آئندہ برسوں میں بھی جاری رکھا جائے گا۔/

 

4331553

نظرات بینندگان
captcha