
ایکنا نیوز- فلسطین انفارمیشن سینٹر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دنوں میں مقبوضہ بیت المقدس کے درجنوں فلسطینی نوجوانوں کو واٹس ایپ کے ذریعے پیغامات موصول ہوئے ہیں، جن میں انہیں چار سے چھ ماہ کے لیے مسجد الاقصیٰ میں داخلے سے منع کرنے کا فیصلہ ابلاغ کیا گیا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی اقدام ہے، جس کا بنیادی مقصد رمضان سے قبل اس مقدس مقام پر فلسطینی نمازیوں اور اعتکاف کرنے والوں کی موجودگی کم کرنا بتایا جا رہا ہے۔
یہ پیغامات، جو قابض صہیونی حکومت کے سکیورٹی اداروں کی جانب سے بھیجے گئے ہیں، ان میں فرد کا نام، شناختی نمبر، مسجد الاقصیٰ سے "جلاوطنی" کی مدت شامل ہے، اور یہ مقبوضہ بیت المقدس میں ڈیجیٹل نگرانی، دھمکی اور کنٹرول کے نئے طریقوں کے پھیلاؤ کی واضح علامت ہیں۔ اسی دوران، متعدد دیگر افراد کو قدیم شہر بیت المقدس میں پولیس مرکز "القشلۃ" میں طلب کرنے کے بعد، انہیں بالمشافہ اسی نوعیت کے احکامات دیے جا رہے ہیں۔
یہ "جلاوطنی" کے احکامات، جنہوں نے اہلِ بیت المقدس میں شدید غصے اور بے چینی کی لہر پیدا کر دی ہے، فلسطینی معاشرے کے وسیع طبقے کو اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں؛ جن میں اسلامی اوقاف کے ملازمین، رہا شدہ اسیران، مسجد کے محافظ، صحافی اور سماجی کارکن شامل ہیں۔
یہ پالیسی ایسے وقت میں مزید سخت کی جا رہی ہے جب قابض صہیونی پولیس رمضان کے موقع پر مسجد الاقصیٰ میں فلسطینیوں کے داخلے پر مزید سخت پابندیاں لگانے کی تیاری کر رہی ہے؛ ایسی پابندیاں جن کا مقصد فلسطینیوں کی موجودگی کم کرنا اور اس مقدس مقام کی موجودہ مذہبی، تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنا ہے۔
وادی حلوہ انفارمیشن سینٹر کی رپورٹ کے مطابق، صرف گزشتہ جنوری میں مسجد الاقصیٰ اور بیت المقدس کے قدیم شہر سے متعلق 135 سے زائد جلاوطنی کے احکامات ریکارڈ کیے گئے۔ بیت المقدس کے محافظوں میں سے رضوان عمرو کہتے ہیں: واٹس ایپ کے ذریعے ایک نامعلوم نمبر سے، جو قابض پولیس کا تھا، مجھے مسجد الاقصیٰ سے اپنی چھ ماہ کی جلاوطنی میں توسیع کا پیغام بھیجا گیا؛ یہ ایسا اقدام ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی، اور غالباً یہ جلاوطنی کے بڑھتے ہوئے احکامات کی وجہ سے کیا جا رہا ہے۔
قدس امور کے ماہر راسم عبیدات اس رجحان کو ایک منظم اور ہدف شدہ پالیسی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، قابض حکومت رمضان سے پہلے جان بوجھ کر جلاوطنیوں کا دائرہ بڑھا رہی ہے اور اس عمل کو تیز کرنے کے لیے ڈیجیٹل ذرائع استعمال کر رہی ہے۔
عبیدات زور دیتے ہیں کہ یہ اقدامات صرف انتہا پسند حکام کی انفرادی پالیسیوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک انتہا پسند حکومت کے سرکاری طرزِ عمل کی عکاسی کرتے ہیں، جس کا مقصد رمضان کو "سکیورٹی مسئلہ" بنا کر مسجد کو نمازیوں سے خالی کرنا ہے۔
ان کے مطابق، "ڈیجیٹل جلاوطنی" بین الاقوامی قوانین اور عبادت کی آزادی، نیز فلسطینیوں کی مقدس مقامات تک آمد و رفت کے حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ قابض حکومت مسجد الاقصیٰ میں یہودیانے (Judaization) کی نئی حقیقتیں مسلط کرنا چاہتی ہے؛ یہ عمل صرف زمانی اور مکانی تقسیم سے آگے بڑھ کر اس مقام پر ایک ایسی چیز مسلط کرنے کی کوشش ہے جسے وہ "یہودی شناخت" کا نام دیتے ہیں۔
عبیدات مزید کہتے ہیں کہ مسجد کے اندر آبادکاروں کی یورش کے لیے نئے راستوں کا افتتاح، اس منصوبے کے مزید خطرناک ہونے کی علامت ہے؛ ایسا منصوبہ جو رمضان میں مسلمانوں کے اعتکاف اور عبادت پر پابندیوں کے ساتھ ساتھ، مسجد الاقصیٰ کے مستقبل کو ایک سنگین خطرے سے دوچار کر رہا ہے۔/
4332368