بحرین میں عاشورا 2026؛ تشدید ؛ کڑی پابندیاں اور شرائط

IQNA

بحرین میں عاشورا 2026؛ تشدید ؛ کڑی پابندیاں اور شرائط

7:25 - May 17, 2026
خبر کا کوڈ: 3520222
ایکنا: بحرین کے محکمہ اوقاف جعفریہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے عاشورائے 2026 کی مجالس اور عزاداری کے انعقاد کے لیے وزارت داخلہ کی جانب سے سخت پابندیوں اور شرائط کے نفاذ کا انکشاف کیا ہے۔

ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق، بحرین کے محکمہ اوقاف جعفریہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ وزارت داخلہ نے محرم الحرام خصوصاً عاشورائے 2026 کی عزاداری کے انعقاد کے حوالے سے سخت اور محدود کرنے والی شرائط پر مشتمل ہدایات جاری کی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ملک میں مذہبی آزادیوں پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بحرین کے وزیر داخلہ راشد بن عبداللہ آل خلیفہ نے جلوسوں اور عزاداری کے دستوں کے اجازت نامے کو اس شرط سے مشروط کیا ہے کہ تقریبات کو “سیاسی رنگ” نہ دیا جائے۔ ناقدین اس شرط کو دینی مراسم کو سماجی، سیاسی اور عوامی مطالبات سے الگ کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔

جاری کردہ ہدایات کے مطابق سکیورٹی اداروں نے کسی بھی خلاف ورزی کے خلاف سخت کارروائی پر زور دیا ہے اور خطباء، حسینیہ منتظمین اور عزاداری کے منتظمین پر وسیع پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ان پابندیوں میں سیاسی یا حقوقی مسائل پر گفتگو کی ممانعت اور تقاریر کے مواد کو حکومت آل خلیفہ کے مقرر کردہ دائرے تک محدود کرنا شامل ہے۔

بحرینی حکام نے ایسے نعروں اور بینرز کے استعمال پر بھی پابندی عائد کر دی ہے جنہیں حکومت “غیر معمولی” تصور کرتی ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ مبہم اصطلاح دراصل علاقائی مسائل سے اظہارِ یکجہتی یا حکومتی پالیسیوں پر تنقید کو روکنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔

اسی تناظر میں ادارہ اوقاف جعفری بحرین نے اعلان کیا ہے کہ عاشورہ کی تقریبات کے لیے ایک “رہنما کتابچہ” جاری کیا جائے گا جس میں انتظامی ضوابط اور شرائط شامل ہوں گی۔ بعض مبصرین اس اقدام کو حسینیات اور عزاداری تنظیموں کے لیے ایک نئی “سکیورٹی ہدایات” قرار دے رہے ہیں۔

یہ پیش رفت ایک ایسے سرکاری سرکلر کے اجرا کے ساتھ سامنے آئی ہے جس کے مطابق مذہبی تقریبات صرف حسینیہ جات اور بند ہالوں کے اندر منعقد کی جا سکیں گی۔ بحرینی حکام نے اس فیصلے کو “علاقائی حالات” اور قومی دفاعی کونسل کے ان فیصلوں سے جوڑا ہے جن میں متعلقہ اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ “امن و عامہ اور عوامی سلامتی” کے نام پر کیے جانے والے یہ اقدامات درحقیقت بحرین میں شیعہ آبادی پر دباؤ بڑھانے اور مذہبی شعائر کو محدود کرنے کی پالیسی کا تسلسل ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے منبرِ حسینی کو سیاسی و سماجی مسائل سے دور رکھنے کی کوشش دراصل عاشورا کے پیغام کو ظلم اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کے مفاہیم سے خالی کرنے کے مترادف ہے۔/

 

4352492

نظرات بینندگان
captcha