IQNA

11:54 - July 09, 2008
خبر کا کوڈ: 1667650
حضرت علی علیہ السّلام كے امتيازی صفات اور خدمات كی بنا پر رسول اكرم (ص) ان كی بہت عزت كيا كرتے تھے۔
آپ اپنے قول اور فعل سے ان كی خوبيوں كو ظاہر كرتے رہتے تھے كبھی یہ كہتے تھے كہ »علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں« .كبھی یہ كہا كہ »میں علم كاشہر ہوں اور علی اس كا دروازہ ہے . كبھی یہ كہا »آپ سب میں بہترين فيصلہ كرنے والا علی ہے . كبھی یہ كہا»علی كومجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون كو موسیٰ علیہ السّلام سے تھی . كبھی یہ كہا»علی مجھ سے وہ تعلق ركھتے ہیں جو روح كو جسم سے ياسر كو بدن سے ہوتا ہے .,,
كبھی یہ كہ»وہ خدا اور رسول كے سب سے زيادہ محبوب ہیں ,, یہاں تك كہ مباہلہ كے واقعہ میں علی علیہ السّلام كو نفسِ رسول كاخطاب ملا. عملی اعزاز یہ تھا كہ جب مسجدكے صحن میں كھلنے والے، سب كے دروازے بند ہوئے تو علی كادروازہ كھلا ركھا گيا . جب مہاجرين وانصار میں بھائی كا رشتہ قائم كيا گيا تو علی علیہ السّلام كو پيغمبر نے آپنا بھائی قرار ديا۔ اور سب سے اخر میں غدير خم كے ميدان میں مسلمانوں كے مجمع میں علی علیہ السّلام كو اپنے ہاتھوں پر بلند كر كے یہ اعلان فرما ديا كہ جس طرح میں تم سب كا حاكم اور سرپرست ہوں اسی طرح علی علیہ السّلام، تم سب كے سرپرست اور حاكم ہیں۔ یہ اتنا بڑا اعزاز ہے كہ تمام مسلمانوں نے علی علیہ السّلام كو مبارك باد دی اور سب نے سمجھ ليا كہ پيغمبر نے علی علیہ السّلام كی ولی عہدی اور جانشينی كااعلان كرديا ہے
نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: