IQNA

23:03 - May 30, 2012
خبر کا کوڈ: 2338083
علم و فكر گروپ : دينی مسائل پر تبادلہ خيال اور گفتگو كا سلسلہ اديان كے پيروكاروں میں ايك دوسرے كی سرنوشت كے بارے میں مشتركہ احساسات كو ايجاد كرنے كا باعث بن سكتا ہے جس كی نماياں ترين مثال مسئلہ قدس ہے جس نے مسلمانوں ، مسيحيوں اور یہوديوں سميت تمام ابراہيمی اديان كے پيروكاروں كے احساسات كو مجروح كيا ہے ۔
ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) كے شعبہ "اسلامی ثقافت و روابط آرگنائزيشن" كی رپورٹ كے مطابق ، يونيورسٹی كے استاد اوراديان كے درميان گفتگو كےلیے قائم مركز كے سابق صدر "رسول رسولی پور" نے "قدس كے مقابل میں مسلمانوں اور مسيحيوں كی مشتركہ ذمہ داری" كے عنوان سے منعقد ہونے والی نشست كےدوران اديان كے پيروكاروں كے درميان گفتگو كی ضرورت پر زور ديتے ہوئے كہا : گفتگو كے بغيرفرصت سے استفادہ نہیں كيا جاسكتا اور نہ ہی معاشرے میں امن وامان برقرار كيا جاسكتا ہے۔
انہوں نے مزيد كہا ہے كہ مشتركہ نكات جيسے اللہ وحدہ لاشريك كی عبادت ، آخرت میں انسان كی ابدی زندگی كے بارے میں اعتقاد كی بنياد پر اديان كے مابين گفت و شنيد كا یہ سلسلہ اديان كے پيروكاروں میں ايك دوسرے كی سرنوشت كے بارے میں احساس مسؤليت كو ايجاد كرسكتا ہے اوراس كی بہترين مثال مسئلہ قدس ہے جس نے مسلمانوں ، مسيحيوں اور یہوديوں سميت تمام ابراہيمی اديان كے پيروكاروں كے احساسات كو مجروح كيا ہے ۔
1018860
نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: