ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے ara.reuters.com کے مطابق بوسنیا میں شدت پسند وہابی طرز فکر سے وابستہ درجنوں اسلامی مراکز کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسلام اعتدال پسند ی سے ہٹ کر شدت پسند رویہ اختیار کرنے اور جوانوں کو شام بھیجوانے کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی بناء پر یہ قدم اٹھایا گیا ہے.
بوسنیا
کے وزیر داخلہ «دراگان مکتیچ» نے واضح کیا ہے کہ بوسنیا میں رجسٹرڈ اسلامی مراکز
کے قوانین پر عمل نہ کرنے والے اداروں کو جلد بند کیا جائے گا.
اس ملک میں اکثر مسلمان دیگر مذاہب بالخصوص مسیحی برادری کے ساتھ امن و محبت سے رہ رہے ہیں مگر بوسنیا میں مسلم نسل کشی واقعات کے بعد بعض شدت پسند افکار کے حامی حالات سے استفادہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس حوالے سے اب تک اس ملک سے ڈیڑھ سو افراد شام میں داعش کو جواین کرچکے ہیں.
اسلامی انجمن نے بھی شدت پسندوں سے بیزاری کا اظھار کرتے ہوئے خبر دی ہے کہ بوسنیا کے مفتی «حسین کاوازویچ» کو بھی ساتھ نہ دینے پر شام میں برسرپیکار شدت پسندوں نے قتل کی دھمکی دی ہے ۔