
ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے «ارم نیوز» کے مطابق بھگوڑے صدر «احمد عطیه» نے سعودی مفتی شدت پسندی مفتی
«شیخ عبدالعزیز آل الشیخ» سے ملاقات کی اور ایک جعلی رپورٹ کے حوالے سے الزام لگایا کہ حوثی جنگجو متعدد مدارس اور مساجد کو تباہ کرچکے ہیں۔
احمد عطیه نے الزام لگایا کہ اب تک ۲۹۹ مساجد کو انصاراللہ کے جنگجو نقصان پہنچا چکے ہیں جنمیں سے ۲۴ مساجد مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں۔
فراری حکومت کے وزیر اوقاف نے الزام لگایا کہ ۱۴۶ مساجد کو حوثی جنگجو گودام اور فوجی اڈے میں تبدیل کرچکے ہیں
عبدالعزیز آل الشیخ نیز نے بھی اس ملاقات میں انصارللہ گروپ کو باغی اور متجاوز قرار دیا ۔
سعودی مفتی نے فرقہ واریت کو اسلامی ممالک کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے عراق اور شام کے مسایل کو اختلافات کا نتیجہ قرار دیا۔
یمن کی فراری حکومت کوشش کررہی ہے کہ سعودی پشت پناہی کی مدد سے اپنی حیثیت بحال کرے مگر حقیقت یہ ہے کہ عوام دل وجان سے انصاراللہ کی حمایت کررہے ہیں
اس سے پہلے بھی فراری حکومت یہ الزام لگا چکی ہے کہ حوثی گروپ نے «صنعاء» کی قرآنی یونیورسٹی پر حملہ کرکے طلبا کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے
مکہ پر راکٹ برسانے اور قرآنی پروگراموں پر پابندی کے الزامات اس سے پہلے انصاراللہ پر لگ چکے ہیں
سعودی حامی میڈیا دو سال سے کوشش کررہا ہے کہ حوثیوں کو متجاوز اور فسادی کے طور پر پیش کرے مگر یمنی قوم مردانہ وار انصاراللہ کی حمایت کی قیمت دینے کے لیے قربانیاں دے رہی ہے۔