
ایکنا نیوز- ای اخبار الاھرام کے مطابق مصر کے وزیر اوقاف نے قرآن مجید کی تعلمیات پر عمل اور قرآن میں تدبر و تفکر کی اہمیت کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مصر کے حفظ مقابلوں میں ان امور کو مدنظر رکھا گیا ہے
مختار جمعه کا کہنا تھا: قرآنی الفاظ کے درست تشریح اور آیات جھاد کے اصلی معانی کو پیش کرنے کا پروگرام بنایا گیا ہے اور اس بار حفظ مقابلوں میں تفسیر کو بھی شامل کیا گیا ہے جبکہ حافظ قرآن کے لیے لازم ہے کہ علم حدیث اور قرآنی علوم میں ماہر ہونا چاہیے اور کم از کم بیس صفحہ مذکور امور پر تحقیقی کام دکھانا لازمی قرار دیا گیا ہے.
وزیر اوقاف کے مطابق پہلے گروپ میں عمر کی حد چالیس سال ہے جبکہ دوسرے گروپ میں آیات جھاد کی تفسیر کے ساتھ امیدوار کے لیے حد عمر پچیس سال مقررکیا گیا ہے جبکہ حافظ قرآن کا عرب زبان ہونا ضروری ہے
مختار جمعه کے مطابق تیسرے گروپ میں تمام اقوام اور طلبا شریک ہیں جسمیں حفظ و تجوید کا مقابلہ ہوگا اور اس میں عمر کی حد پچیس سال مقرر کیا گیا ہے.
چوتھے گروپ میں نوجوان شام ہیں جسمیں قرآن کے معانی کا ادراک لازمی ہے۔
مختار جمعه کے مطابق مقابلوں کے ہمراہ علمی سیمینار کا بھی اہتمام کیا گیا ہے جبکہ شرکاء مقابلہ کے لیے تفریحی دوروں کا انتظام کیا گیا ہے۔
مقابلوں میں اہم پوزیشن ہولڈرز کے لیے ایک ملین مصری پونڈ انعام رکھا گیا ہے اور اختتامی تقریب انیس رمضان المبارک کی رات کو منعقد کی جائے گی ۔