
ایکنا نیوز- ننھا مصری حافظ قرآن «محمد رابح نبیل علی» ابھی دس سال سے کم عمر ہے مگر ان سے بات کرتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ انسان کسی سنجیدہ عمر شخصیت سے بات کررہا ہے
مصر کے قومی مقابلوں میں پہلی پوزیشن کرنے والے «محمد رابح نبیل علی» مصر کے صوبہ «اسکندریه» سے تعلق رکھتا ہے
اور دو روایتوں «حفص از عاصم» اور «شعبه از عاصم» میں اجازت نامہ بھی حاصل کرچکا ہے۔
محمد رابح نبیل کو رجب کے مہینے میں وزارت اوقاف کے نمایندے «شیخ محمد العجمی» نے شب معراج پیغمبر(ص) کے موقع پر مسجد «العارف بالله أبی العباس مرسی» میں تلاوت کے لیے خصوصی دعوت بھی دی تھی۔
حسن صوت اور تجوید کے احکام و قواعد میں دقت نظری کی وجہ سے آپ خاص شہرت رکھتے ہیں اور اسکندریہ کے گورنر«محمد سلطان» آپکو خصوصی انعامات سے نواز چکے ہیں ۔
ننھے حافظ نے «البوابه نیوز» نیوز سے اپنی زندگی کے بارے میں کہا :«میں مشرقی اسکندریہ کے علاقے «سیدی بشر» کی مسجد «الهدایه» کے قریب رہتا ہوں».
محمد رابح نے کہا کہ میں اس وقت «محمود صدقی» نامی قرآنی اسکول میں مشغول ہوں اور والدین کی حمایت سے قرآن مجید پر کام کررہاہوں۔
رابح نے کہا کہ میں نے «حفص از عاصم» اور «شعبه از عاصم» کے اجازت نامے کے لیے «شیخ ممدوح مزارع المقدم» سے کسب فیض کیا۔
انکا کہنا تھا کہ مذکورہ اجازت نامے کے لیے انہوں نے «شیخ محمد عزت» جیسے نامور اساتذہ سے تربیت حاصل کی ہے۔
دیگر اساتذہ میں مصری ٹی وی کے استاد «شیخ رأفت حسین» سے بھی وہ کسب فیض حاصل کرچکا ہے۔
کم سن حافظ کا کہنا ہے کہ میں تلاوت میں «محمد خلیل الحصری»، «محمود علی البنا»، «مصطفی اسماعیل»، «شیخ عبدالباسط عبدالصمد»، «شیخ عبدالفتاح طاروطی»، «محمد علی الطاروطی» اور «رأفت حسین» کی پیروی کرتا ہوں۔
رابح کا کہنا ہے کہ آپ سب کی تلاوت کی تقلید کریں مگر آخر میں اپنا طرز ضرور بنائے۔
انہوں نے مسجد «أبی العباس مرسی» میں گورنر اور دیگر اعلی حکام کی موجودگی میں تلاوت کو اہم کارنامہ قرار دیا۔
انکا کہنا ہے کہ اعلی حکام کے تعاون سے انکے اعزاز میں ایک پروقار تقریب کی بھی تیاری کی جارہی ہے۔