
ایکنا نیوز- خبررساں چینل «Maori Television» کے مطابق شکیل احمد سال ۱۹۳۲ کو بھار انڈیا میں پیدا ہوئے تھے اور پاکستان کے قیام کے بعد وہ یہاں ہجرت کرگیے
انہوں نے اسلامی کی ترویج کے لیے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور افریقی ممالک سمیت بہت سے علاقوں کا دورہ کیا
۱۹۸۰ کو انہون نے نیوزی لینڈ کی عوام کے اصرار پر مائوری زبان میں قرآن کے ترجمے پر کام کیا ، اس سے پہلے اس قوم کے لیے کسی نے قرآن مجید کا ترجمہ نہیں کیا تھا
احمد منیر نے اس بات کا اندازہ کرلیا تھا کہ اس زبان میں ترجمے کے لیے عربی، انگریزی اور مائوری زبان سے مکمل آگاہی ضروری ہے.
انہوں نے سخت کوشش کے بعد بیس سال کے عرصے میں مائوری زبان پر عبور حاصل کیا اور پھر قرآن کا ترجمہ کیا، انہوں نے اس کام کے لیے ذاتی رقم خرچ کیا اور کسی کی مدد کا انتظار نہ کیا۔
احمد منیر نے زندگی کے باقی عرصے پاکستان کے شہر کراچی میں گزارے اور گذشتہ روز قلیل علالت کے بعد دارفانی سے کوچ کرگیے