امارات نشست میں: برمنگھم قرآنی نسخہ بشریت کے لیے سرمایہ قرار

IQNA

امارات نشست میں: برمنگھم قرآنی نسخہ بشریت کے لیے سرمایہ قرار

7:09 - November 05, 2017
خبر کا کوڈ: 3503763
بین الاقوامی گروپ: شارجہ میں بین الاقوامی کتب نمائش کے ہمراہ برمنگھم میں قرآن خطی نسخوں کے حوالے سے دانشوروں کی نشست منعقد ہوئی

امارات نشست میں:برمنگھم قرآنی نسخہ بشریت کے لیے سرمایہ قرار


ایکنا نیوز- نیوز ایجنسی «بوابة الفجر» کے مطابق برمنگھم میں قرآن خطی نسخوں کے حوالے سے دانشوروں کی نشست میں سعودی ماہر اور مصنف «ابراهیم نملة»، مصری مورخ «ایمن فؤاد سید»، برمنگھم یونیورسٹی کے استاد «سوزان وورال»، میڈل ایسٹ نسخہ شناس «نیلام حسین»، اور مصر کے سابق وزیر ثقافتی «عبدالواحد النبوی» شریک تھے۔

ریڈیوکاربن ٹیسٹ کے زریعے معلوم ہوا ہے کہ برمنگھم کا نسخہ ۵۶۸ سے ۶۴۵ صدی سے متعلق ہے جسکو دنیا کا قدیم ترین نسخہ قرار دیا جاسکتا ہے۔

برمنگھم یونیورسٹی کے استاد «سوزان وورال» کاکہنا ہے کہ مذکورہ نسخہ جولائی ۲۰۱۵ کو دریافت ہوا تھا جو «عثمان بن عفان»، خلیفه سوم کے زمانے سے تعلق رکھتا ہے

انکا کہنا ہے کہ اگرچہ برمنگھم یونیورسٹی میں بیشمار قدیم ترین نسخے موجود ہیں مگر اس نسخے کے بعد دنیا بھر میں اسکا چرچا ہوا اور ہم نے تین ہفتوں تک اس کی نمایش منعقد کی جسکو نو ہزار شایقین نے دیکھا۔

ورال کا کہنا ہے کہ انسانیت کے لیے یہ ایک گرانقدر سرمایہ ہے جسکو بین الاقوامی ہم آہنگی کی ترویج کے لیے کام میں لایا جاسکتا ہے۔

نیلام حسین کا کہنا تھا کہ ریڈیو کاربن کی آزمایش کو سوفیصد درست نہیں قرار دیا جاسکتا ہے۔

مصری مورخ ایمن فؤاد سید نے نشست سے خطاب میں کہا کہ قرآن کی جمع آوری رسول خدا(ص) کے زمانے میں ہوا کہ نہیں اس بارے میں واضح تاریخ موجود نہیں۔

انکا کہنا تھا کہ خلیفہ سوم کے زمانے میں «زید بن ثابت» کے زمانے میں قرآن کی جمع آوری ہوئی ہے جو مذکوہ خطی نسخے سے ملتا ہے اور اس حوالے سے اسکی بہت اہمیت ہے

قابل ذکر ہے کہ مذکورہ نسخے کی کپی شارجہ کی بین الاقوامی کتب نمایش میں رکھی گیی ہے جو گذشتہ بدھ سے جاری ہے

اس نمایش میں ساٹھ ممالک سے ۱۶۵۰ ناشر اور مطبوعاتی ادارے شرکت کررہے ہیں جبکہ نمایش مزید ایک ہفتے تک جاری رہے گی/.

3659753

نظرات بینندگان
captcha