
ایکنا نیوز سے گفتگو میں چھٹے قرآنی مقابلوں کے جج محمدفهمی عصفور نے کہا کہ طلباء قرآنی مقابلے مسلمانوں اور طلباء کے تبادلہ نظر کے لیے بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں۔
عصفور نے کہا کہ بعض مقابلوں میں ججز اور طلبا میں تعلق قایم کرنا ممکن نہیں ہوتا مگر ایران کے طلبا مقابلوں میں ہم طلبا سے آسانی سے بات کرسکتے تھے اور یہ ایک خوبصورت ماحول تھا
انکا کہنا تھا کہ مذکورہ مقابلہ ایک درسگاہ کی مانند تھا جسمیں سب نے بہت کچھ سیکھا ۔
مصری قاری نے کہا کہ طلبا دیگر مقابلوں میں اب بہتر انداز میں شریک ہوں گے کیونکہ انہوں نے یہاں اپنی غلطیوں سے کافی کچھ درس لیا ہے
عصفور نے کہا کہ ان مقابلوں کو ترجموں کے ساتھ ٹیلی ویژن پر نشر کرنا بہترین تجویز اور طریقہ ہے جس سے بہت سے طلبا فایدہ اٹھا سکتے ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ طلبا کی بھی خواہش ہے کہ وہ صرف مقابلوں میں شریک نہ ہوبلکہ اپنے اچھے اور برے نکات سے باخبر ہونا سبکی خواہش ہے۔
مصری جج کے مطابق سارے قراء خود کو بہترین سمجھتے ہیں مگر جب ماہر ججز انہیں انکی غلطیوں سے آگاہ کرتے ہیں تو انہیں اپنی خامی کا پتہ چلتا ہے۔
انہوں نے تجویز پیش کی کہ ہر قاری کے بعد جج کو اظھار نظر کی بجایے اچھا ہے کہ تین چار قرآت کے بعد جج کو بلایا جائے تاکہ وہ کلی طور پر نقایص کو بیان کرسکے اور اس طرح قاری بھی شرمندہ نہ ہوگا۔
مصری جج نے کہا کہ امید کی جاتی ہے کہ ان مقابلوں سے دوسرے لوگ درس لیں گے اور رہبر معظم نے بھی قرآن پر عمل کے حوالے سے بہترین جملات ادا کیے۔
شیخ محمد فهمی عصفور نے کہا کہ قرآن و عترت سے تمسک ضروری ہے اور داعشی عناصر جیسے لوگ جو صرف قرآن کو کافی قرار دیتے ہیں وہ گمراہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قرآن سے تمسک ضروری ہے اور جنکو خدا نے یہ توفیق دی ہے وہ خدا کا شکر ادا کریں اور یقینی طور پر قرآن ہر مرحلہ زندگی میں انکی رہنمائی کرتا ہے۔/