IQNA

20:48 - November 13, 2019
خبر کا کوڈ: 3506857
بین الاقوامی گروپ- اہل سنت مدارس کے علمی بورڑ کے رکن نے بانی انقلاب کے وحدت پخش پیغام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام ممالک میں وحدت اس صورت میں ممکن ہے جب وہ ایک دلیر رھبر کی پیروی کریں گے ورنہ انکا سرانجام مصر انقلاب کی طرح عبرت آموز ہوگا۔

ایکنا نیوز- ولادت رسول اکرم(ص) اہل سنت اور اہل تشیع روایت کے مطابق   12 اور 17 ربیع‌‌الاول کو ہیں اور اس ہفتے کوهفته وحدت

کے نام سے منسوب کیا گیا ہے ۔ وحدت کا لفظ ایک اہم احساس کے ساتھ جانا جاتا ہے اور بہت سے لوگوں کی کوشش رہی ہے کہ شیعہ سنی تفرقے سے اپنے مفادات تک پہنچے۔

اس حوالے سے لازم ہے کہ معاشرے کے علما اور دانشور وحدت کے لیے زیادہ سے زیادہ کوشش کریں اور اسلامی اتحاد کو پارہ پارہ نہ ہونے دیں۔

ماموستا ملاقادر قادری اہل سنت مدارس بورڑ کے رکن اور پاوہ شہر کے امام جمعہ ہونے کے علاوہ وحدت کے اہم داعیوں میں شمار ہوتا ہے ، ایکنا نیوز نے مبین اسٹوڈیو میں ان سے وحدت کے مسئلے پر گفتگو کی ہے جو پیش خدمت ہے۔

بحث اور گفتگو کا آغاز مومنین کی بھائی چارگی کی آیت سے ہوئی، وحدت پر ہمیشہ تاکید کی گیی ہے ، قرآن اس پر واضح انداز میں تاکید کرتا ہے ، آپکے خیال میں اس بھائی چارگی کی فضا کو کیسے جامعہ عمل پہنایا جاسکتا ہے؟

قادری- جیسے کہ آپ نے آیت پیش کی، قرآن مسلمان کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیتا ہے اور

«إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ» پر سب مفسرین متفق ہیں، صاحب تفسیر الکشاف کا کہنا ہے کہ  إِخْوَةٌ قرآنی اصطلاح کے مطابق سب کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیتا ہے۔

قرآنی کی نظر میں مومنین ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور ایک دوسرے کی نسبت بھائی کی طرح حقوق رکھتے ہیں نہ کہ سیاسی یا اجتماعی بھائی۔ ان صفات پر قرآنی حوالے سے عمل ضروری ہے اور انقلاب کے چالیس سالوں میں خدا کے فضل سے اس پر کافی کام ہوئے ہیں۔

 

ایکنا ــ بھائی چارگی کی فضاء کو علاقائی ممالک کیسے قائم کی جاسکتی ہے؟

قادری: میں نے جمعے کے خطبوں میں عربی انقلابات کے حوالے سے کافی باتیں کی ہیں میں نے کہا ہے کہ انقلاب ایک نتیجے پر پہنچنے کے لیے کیے جاتے ہیں اور اسکے لیے ایک دلیر لیڈر کی ضرورت ہوتی ہے ۔ مصر کے عوام نے کافی محنت کی مگر وہ کسی نتیجے تک نہ پہنچے اور سیسی جیسے لوگ اقتدار پر آگیے ، مصری رھنما عوام کو یکجا نہ کرسکے ورنہ مصر میں شیعہ اور سنی کی باتیں نہ ہوتیں۔

ماموستا ملاقادر قادری:عالم اسلام میں وحدت کے لیے ایک دلیر رھبر کی پیروی ضروری ہے

انکی ناکامی کی اہم وجہ یہ ہے کہ انکو ایک حکیم اور دلیر لیڈر نہ مل سکا اور اسلامی انقلاب یہاں ایران میں ایک کامیاب لیڈر کی وجہ سے کامیاب ہوا ۔

ایک اور نکتہ یہ ہے کہ اس وقت تمام مسلمانوں کی وحدت اور ملکر مقابلے کی فضاء مشکل نظر آتی ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک کسی ایک طاقت سے منسلک ہوچکا ہے اور وہ ان سے مرضی کے مطابق کام لیتے ہیں۔

ایکنا ــ وحدت کے حوالے سے آج کے دور میں کیا تصور پائے جاتے ہیں؟

سنی علما کو شیعہ علما کے لیے دعا کرنی چاہیے اگر ہم بھی افغانستان کے علما کی طرح ایکدوسرے کے خلاف فتوے دیتے اور ایک دوسرے کو مارنے کی تاکید کرتے تو یہ امن ممکن نہ ہوتا، منطقی فضا میں ہم امن سے رہتے ہیں اور اجتماعی امن پر توجہ کی ضرورت ہے۔

 

اہم نکتہ یہ ہے کہ قرآن ہماری بقاء وحدت میں قرار دیتا ہے جیسا کہ فرمایا ہے کہ

: «وَاعتَصِموا بِحَبلِ اللَّهِ جَميعًا وَلا تَفَرَّقوا». رسول خدا(ص) نے بھی حجةالوداع میں فرمایا کہ تفرقے سے بچو اور آپس میں تقسیم میں نہ پڑو ۔ لہذا کامیابی اور سربلندی اس میں ہے کہ ہم قرآن کی طرف رجوع کریں اور قرآنی زندگی اپنانے کی کوشش کریں۔

 

3854553

 

نام:
ایمیل:
* رایے: