IQNA

9:02 - February 18, 2020
خبر کا کوڈ: 3507252
تہران (ایکنا)- خاشقچی قتل کے دو سال بعد اب بھی اعتراض کرنے والوں کی سرکوبی کی پالیسی برقرار نظر آتی ہے۔

نیشنل اینٹرسٹ کے مطابق صابرا عزیزی(Sabera Azizi، افغان تجزیہ کار خاشقچی قتل کیس کے حوالے سے لکھتا ہے: ایف بی آئی کی بروقت مداخلت سے محمد بن سلمان پر اعتراض کرنے والے طالب علم «عبدالرحمن المطیری» جو امریکی یونیورسٹی میں طالب علم ہے : المطیری کی فہرست میں شمولیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اعتراض کرنے والوں کا سلسلہ طویل تر ہوتا جارہا ہے اور سال ۲۰۱۷ سے انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ بڑھ رہا ہے جب سے بن سلمان کا دور شروع ہوا ہے۔

 

عزیزی کا کہنا ہے کہ داخلی جنگ اور سرکوبی کے علاوہ بن سلمان نے ارادہ کیا ہے کہ وہ یمن، شام ، لبنان اور قطر سے نمٹے. جبکہ بیرونی ممالک میں مساجد کو فنڈنگ بند کرنے کی پالیسی اختیار کی گیی ہے۔

 

انکا کہنا کہ اگرچہ موجود حکومت کے وزیر انصاف نے اعلان کیا تھا کہ اب مزید مساجد کو بیرون ممالک فنڈ نہیں دیں گے تاہم لگتا ہے کہ اہم علاقے جیسے  افغانستان و پاکستان میں فنڈنگ جاری رہے گا تاہم یہ سعودی پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ ہے۔

 

عزیزی نے کہا کہ سعودی عرب ایران کے مقابل شدت پسند گروپوں اور مراکز کو

کو سپورٹ کیا جاسکتا ہے تاہم مساجد کو فنڈ نہ دینا اہم تبدیلی کہا جاسکتا ہے۔

 

تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ بن سلمان بیرونی دشمنوں کے مقابلے میں اندورونی دشمنوں کو زیادہ خطرناک قرار دیتا ہے اور انکی سرکوبی تیز ہوچکی ہے جب کہ ایران کے مقابلے میں انکو مغربی ممالک کی حمایت حاصل ہے مگر اہم موضوعات پر وہ ان کی حمایت نہیں کریں گے۔

 

عزیزی نے جمال خاشجی کے قتل سے زیادہ تبلیغات نے انکے کام کو متاثر ضرور کیا۔

 

تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ ایک اور اندورونی مخالف کو قتل کے امکان پر  FBI نے المطیری کو پناہ دی۔/

 

3879394

نام:
ایمیل:
* رایے: