
کرغیزستان میں ایرانی ثقافتی مرکز کے مطابق معروف مسلمان دانشور حاجی جلیل اف کی اہلیہ «آیسالکین کولماتوا»، نے بیشکک میں اسلامی چائلڈ کیئر سنٹر قایم اور اس کو اپنی بیٹی کے نام پر «سندس» رکھا ہے۔
اس سنٹر کے قیام کا مقصد نسل نو کو اسلامی اخلاق کے مطابق تربیت دینا ہے ۔ کولماتوا نامی خاتون جس نے سات سال تک اسلامی مدرسہ «نائمه» میں کام کیا ہے انکی خواہش تھی کہ وہ زاتی چائلڈ کیئر سنٹر بنایے.
آنسووں سے نم آنکھوں سے انکا کہنا تھا: «اس سنٹر کا مقصد خدا کی خوشنودی اور نسل مومن کی تربیت ہے جہاں اسلامی دروس، قرآن مجید، ترجمه احادیث اور دیگر معارف کا اہتمام کیا گیا ہے اور مومن تجربہ کار اساتذہ یہاں کام کریں گے.»
انکا کہنا تھا کہ چوباک حاجی جلیلاف کی خواہش تھی کہ وہ ایک اسلامی مرکز قایم کریں مگر افسوس کہ وہ اپنی زندگی میں یہ دیکھ نہ سکی.
«سندس» چائلڈ سنٹر کا فرق دیگر مراکز کے ساتھ یہ ہے کہ یہاں سے فارغ بچے بہ آسانی دیگر اسکولوں میں تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔
بچے یہاں پر عربی اور انگریزی زبان سیکھ سکتے ہیں. سنٹر میں بچے جمناسٹک اور تیکوانڈو وغیرہ سکیھتے ہیں اور انکی غذا وغیرے کے بہترین انتظام کیا گیاہے۔

۱۰ سے ۱۵ کی تعداد میں گروپ کی شکل میں ۳ سے ۶ سال کے لیے روسی زبان میں یہاں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
حلال غذا
محترمہ آیسالکین کولماتوا کے مطابق بچوں کو اسلامی طرز پر حلال خوراک دی جاتی ہے اور انکے والدین کے لیے بھی اس حوالے سے رھنمائی دی جاتی ہے۔

بچوں کے اس مرکز میں چھ سے پندرہ سال کے بچے داخل کیے جاتے ہیں جہاں تعلیم کے ساتھ انکو ٹیکنکل تعلیم بھی دی جاتی ہے۔/