IQNA

12:28 - February 21, 2021
خبر کا کوڈ: 3508931
تہران(ایکنا) اسرائیلی اینٹلی جنس کے سابق سربراہ نے کہ ہے کہ خطرات سے دوچار اسرائیل کو خدشہ ہے کہ انکی اگلی نسل وجود میں نہ آسکے۔

روزنامه القدس العربی کے مطابق اسرائیلی اینٹلی جنس کے سابق سربراہ نے اسرائیل کے حوالے سے تحفظات کا اظھار کیا ہے۔

 

یووال ڈیسکین کے حوالے سے لکھتا ہے کہ اسرائیلی اینٹلی جنس (شاباک) نے عبری اخبار روزنامه «یدیعوت آحارونوت» کے مقالے میں اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل کو سنگین خطرات درپیش ہیں اور ممکنہ طور پر وہ اگلی نسل کو پچیس سال بعد نہ دیکھ سکے مگر انکا کہنا ہے کہ یہ خطرات بیرونی کی بجائے اندورونی ہوسکتے ہیں۔

 

 انکا کہنا تھا کہ حالات کو بدلنے کی سنجیدہ کوشش نہ کی گیی تو اگلے پچیس سال انکے لیے ڈروانا خواب ثابت ہوسکتا ہے۔

ڈیسکین کے مطابق جس بحران کو اسرائیل کو اس وقت سامنا ہے اور ایک متزلزل حکومت قایم ہے وہ نا اہل ہے جس نے کورونا معاملے میں نا اھلی ثابت کردی ہے۔

انہوں نے سوال کیا ہے کہ کیا اقتصادی، اجتماعی اور فوجی حوالے سے اسرائیلی حکومت پروگراموں سے مطمین ہے؟

 

ڈیسکین کا کہنا ہے کہ میں ایران کی ایٹمی طاقت،  حزب‌الله کے میزائیلوں یا شدت پسند اسلام کی بات نہیں کررہا میں اندورونی مسائل کی طرف اشارہ کررہا ہوں۔

 

انکا کہنا تھا کہ اس وقت اندورونی طور پر بائیں اور دائیں جانب کے بازو میں اختلافات یہودی و عربی اختلافات سے زیادہ گہرا ہے اور وہ اپنے زیرکنٹرول علاقوں پر تسلط  رکھنے کے حوالے سے مشکلات کا شکار ہے۔

 

انکا کہنا تھا ۴۰ سال کے اندر اسرائیل کی نصف آبادی حریدی و عرب میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

 

انکا کہنا تھا: مذکورہ دو گروپ  اسرائیل کی عدم توجہ کی وجہ سے مشکلات و مسائل سے دوچار ہے اور حکومت اس مسائل کی ذمہ دار ہے۔

 

انکا کہنا تھا: مذکورہ پیشن گوئی کے حوالے سے زیادہ تجزیے کی ضرورت نہیں اور ایک عام آدمی بھی اس جو درک کرسکتے ہیں اور اس وقت زیادہ خطرناک امر یہ ہے کہ اکثر اسرائیلی ملک سے باہر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔/

3955108

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: