IQNA

15:34 - March 01, 2021
خبر کا کوڈ: 3508969
مقتول سعودی صحافی جمال خاشقجی کی منگیتر خدیجہ نے کہا ہے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو سزا دی جانی چاہیے کیوں کہ امریکی انٹیلیجنس رپورٹ میں قتل ثابت ہوگیا ہے۔

خیال رہے کہ جمال خاشقجی سعودی صحافی تھے جو امریکی روزنامہ واشنگٹن پوسٹ میں سعودی پالیسی کے حوالے سے تنقیدی مضامین لکھتے تھے۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق انہیں سعودی ولی عہد سے تعلق رکھنے والی ایک ٹیم نے ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی سفارتخانے میں قتل کر کے لاش کے ٹکڑے کردیے تھے۔

اس حوالے سے جمعے کے روز ایک امریکی انٹیلی جنس رپورٹ جاری کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ سعودی شہزادے نے جمال خاشقجی کے قتل کی منظوری دی اور واشنگٹن نے اس میں ملوث کچھ افراد پر پابندی بھی عائد کردی تھی تاہم اس میں سعودی ولی عہد شامل نہیں تھے۔

سعودی عرب کی حکومت نے اس قتل میں ولی عہد کے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے مذکورہ رپورٹ مسترد کردی تھی۔

اس ضمن میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے مقتول صحافی کی منگیتر نے کہا کہ 'یہ انتہائی ضروری ہے کہ ولی عہد کو بغیر کسی تاخیر کے سزا دی جانی چاہیے'۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'اگر ولی عہد کو سزا نہ دی گئی تو اس سے ہمیشہ یہ اشارہ ملے گا کہ اصل مجرم قتل سے فرار ہوسکتا ہے جو نہ صرف ہم سب کے لیے خطرہ ہوگا بلکہ انسانیت پر داغ ہوگا'۔

امریکی صدر جوبائیڈن کی حکومت نے جمعہ کو کچھ افراد پر ویزے کی پابندی لگائی تھی جنہیں سعودی صحافی کے قتل میں ملوث مانا گیا تھا، اس کے علاوہ دیگر پر لگائی گئی پابندی سے ان کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد اور عمومی طور پر امریکیوں کو ان سے رابطے رکھنے سے روک دیا گیا تھا۔

سعودی ولی عہد محمد سلمان پر پابندی نہ لگانے پر تنقید کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ وہ پیر کے روز ایک اعلان کریں گے لیکن انہوں نے اس کی کوئی تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔

 

دوسری جانب وائٹ ہاؤس حکام کا کہنا تھا کہ کوئی نیا اقدام متوقع نہیں ہے۔

 

علاوہ ازیں سعودی صحافی کی منگیتر کا کہنا تھا کہ 'بائیڈن حکومت سے شروعات کے بعد دنیا کے تمام سربراہان کا اپنے آپ سے یہ پوچھنا اہم ہے کہ کیا وہ ایک ایسے شخص سے ہاتھ ملانا پسند کریں گے جو ایک قاتل ثابت ہوگیا ہو'۔

1154987

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: