IQNA

10:05 - April 11, 2021
خبر کا کوڈ: 3509121
تہران(ایکنا) برطانوی اخبار نے اٹھارہ سال سے کم عمر طالبات کی حجاب پر پابندی کو ڈیموکریسی سے متصادم قرار دیا ہے۔

الجزیره نے فرانس میں حجاب مخالف مہم کو فرانس کے جمہوری دعووں سے متصادم قرار دیا ہے۔

رائٹر براگیا آگروال نے رپورٹ میں کہا ہے کہ اس سے ڈیموکرسی کے اصولوں پر سوال اٹھتا ہے۔

انکا کہنا تھا: یہ اقدام مسلمان خواتین کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے جس سے ان پر دباو میں شدید اضافہ ہوگا۔

انکا کہنا تھا کہ اصل میں حجاب سے مقابلہ فروری ۲۰۰۴ میں شروع ہوا جب فرانس کے پارلیمنٹ نے اسکولوں میں حجاب، یہودی ٹوپی اور مسیحی صلیب پر پابندی کا فیصلہ کیا۔

 

اس سے پہلے ستمبر ۲۰۰۳ میں کچھ جرمن ریاستوں میں مسلمان ٹیچرز کی حجاب پر پابندی لگائی گئی تھی۔

 سال ۲۰۱۱ میں فرانس میں تمام عوامی مقامات پر حجاب پر پابندی لگائی گیی۔

 

 سال ۲۰۱۴ میں یورپی انسانی حقوق کی تنظیموں نے حجاب پابندی کو توثیق کردی اور کہا کہ اس سے عوام کا حق سلب نہیں ہوتا جبکہ سال ۲۰۱۶ میں مسلمان خواتین کی سوئمنگ کٹ پر پابندی لگائی گیی۔

 

رائیٹر لکھتا ہے کہ فرانس میں ڈیموکریسی اور آزادی کے نام پر اقلیتوں کے خلاف اقدامات کیے جاتے ہیں۔

رائیٹر لکھتا ہے کہ فرانس میں استعماری رویہ اب تک باقی ہے کیونکہ یہ ملک افریقہ اور میڈل ایسٹ کے بہت سے مسلمان ممالک پر قابض رہ چکا ہے اور انکا یہ رویہ اب تک باقی ہے۔

 

تیس مارچ کو فرانس کی سینیٹ نے منظوری دی کہ جمہوری اصولوں کی حفاظت کے لیے اسلامی شدت پسندی سے مقابلہ کیا جائے ۔

 

اب تک اس قانون کو نافذ الاجرا نہیں کیا گیا ہے اور منظوری کی صورت میں فرانس کی لڑکیاں پندرہ سال کی عمر سے جنسی آزادی میں خودمختار ہوگی تاہم اٹھارہ سال تک حجاب نہیں کرسکتی ۔

 

رائٹر لکھتا ہے کہ جدید قانون سے فرانس کی حکومت کے نعرے «آزادی ... برابری ... برادری» سے متصادم ہے کیونکہ یہ عدالت اور خواتین کے حقوق سے متصادم ہے۔/

3963375

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: