IQNA

11:11 - April 15, 2021
خبر کا کوڈ: 3509144
رمضان میں جلدی جلدی نماز و تلاوت سے شیطان عبادت کی روح سے بھٹکا سکتا ہے کیفیت اور حقیقت پر غور اہم ترین نکتہ ہے

عظیم اور نامور عارف و عالم ربانی آیت اللہ کشمیری کی خاص ہدایات و نکات رمضان کے حوالے سے قابل غور و فکر ہیں۔

١- "زیادہ کی انجام دہی کے بجائے کیفیت و اچھے اعمال کی بجاآوری کی فکر کرو!"

جلدی جلدی پاروں اور دعاؤں کو ختم کرنے کی فکر کو ذہن سے نکال دو بلکہ انہیں روح میں اتارنے اور سمجھے اور ہضم کر نے کی کوشش کرو،کم غذا کھاؤ مگر خوب چبا کر کھاؤ تا کہ وہ تمہارے  جسم کا اچھاحصہ بن سکے(اسی طرح کم پڑھو لیکن اچھی طرح پڑھو تا کہ وہ تمہاری روح میں شامل ہو سکے) ۔

 ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی مشکل دین و شریعت کے صرف ظاہری اعمال و مناسک کوہی  دیکھنا اور ان پر توجہ دینا ہے۔تنہائی میں جا کر غوروفکر کرو کہ گزشتہ سال جو تم  نے بہت شوق سے زیادہ سے زیادہ نیک کام کرنے کی کوشش کی تو تم کہاں تک پہنچے؟!

ماہ مبارک رمضان کے آغاز میں ہی حتمی نیت کروکہ تم روزہ رکھو لیکن صرف اللہ کی خوشنودی کیلئے۔ اچھے اور حقیقی روزے داری کے آداب کو جہاں تک ہو سکے دل کی توجہ اور ہشاش بشاش طریقے سے بجا لاؤ

آيت اللّٰه كشميرى مرحوم کی ماه مبارک رمضان کے حوالے سے ۹ گرانقدر نصیحتیں

٢-غورو فکر

تم پر لازمی ہے کہ دن کا کچھ وقت کہ جب تم روزے کی حالت میں ہو ، افضل ترین عباد ت کیلئے مخصوص کرو اور وہ افضل ترین عبادت اپنے خالق و مالک اور اپنے خدا سے تنہائیوں میں غوروفکر کرنے سے عبارت ہے۔

اس غوروفکر میں تم کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے رشتے اور تعلق کے بارے میں سوچو (کہ تم اس کے کیسے بندے ہو؟ اس کی دی ہوئی نعمتوں کا شکریہ کیسےادا کرتے ہو؟ کیا تم کوگناہ کرتے وقت اللہ سے  شرم محسوس ہوتی ہے؟ کیا تم اس کی بندگی کا حق ادا کرتے ہو؟!وغیرہ وغیرہ ) اس طرح غوروفکر کرنےسے امید ہے کہ اللہ کی معرفت کے دروازے تم پر کھول دیئے جائیں گے۔

 

طولانی سجدے ۳ 

ماہ مبارک رمضان میں ایک اور اہم ترین حالت لمبے اور طولانی سجدے کرنا ہے کہ جس کیلئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے۔

یہ تو صرف اللہ اور دوستان خدا ہی جانتے ہیں کہ طولانی سجدوں میں بندے پر اللہ کی ربوبیت کی جانب سے کون سی بارش برستی ہے۔ یہ آپ پر لازمی ہے کہ دن و رات میں ایک طولانی سجدہ ضرور کرو۔.

 

۴- جہاں تک ممکن ہو اپنے گھر میں افطار کرو۔ مساجد میں (اگر نماز کیلئے جاؤبھی تو وہاں)افطار نہ کرو۔ کوشش کرو کہ افطار کے وقت کی خاص برکتیں اور قبولیت دعا کی خاص گھڑیوں کی نورانیت تم اپنے گھر والوں کے ساتھ گزارو۔

ایک اور چیز وہ یہ کہ افطارکے وقت ’’دِلال‘‘ یعنی ناز کرو۔ وقت افطار اللہ کے سامنے ناز کرو کہ خدایا یہ روزہ تیرے لئے رکھا ہے اور اب تو نے مجھے افطار اور کھانے کی اجازت دی ہے تو جب پہلا لقمہ اٹھاؤ اور دھان کے قریب لے جاؤ تو اسے  فوراً نہ کھاؤ بلکہ اس موقع پر اللہ سے دعا کرو کہ اگر خدا تو نے میری حاجت روائی کی تو میں افطار کروں گا۔(چونکہ تم اس ماہ میں اللہ کے مہمان ہو اور میزبان پر مہمان کا اکرام و عزت کرنا لازمی ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ تمہاری دعا کو ضرور اور قبول فرمائے گا۔)عرفا ء کے بقول یہ حالت اور عمل انسان کیلئے معجزہ نما ہے!!.

 

۵- ضیافت و مہمانی خدا کے عظیم دستر خوان پر اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کا راز اچھے اخلاق میں پوشیدہ ہے

اپنی زوجہ، اولاد، دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ مہربانی اور اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاراغصہ تم کو اسی وقت اللہ کی مہمانی سے اخراج کرنے کا سبب بن جائے!.

 

۶- ماہ مبارک کی سحر انگیز کشتی دریائے «اشک»  کی موجوں  پر بہتی ہوئی ساحل نجات پر پہنچتی ہے!

کوشش کرو کہ اس ماہ میں خصوصاً سحر ی کے سحر انگیز وقت  میں اشک و گریہ کے ساتھ اللہ سے دعا و درخواست کرو۔

 

۷- ماه رمضان کی ابتداء سے ہی  "لیلة القدر” کو پانا اور اس کی حقیقت کاادراک کرنا تمہارا مقصد ہونا چاہئے۔ جان لو کہ یہ شب قدر ماہ مبارک رمضان کی جان  ہے

اس بارے میں بہت زیادہ  نکات بیان کیے گئے ہیں لیکن  «مصلحت نیست که از پرده برون افتد راز» یعنی مصلحت نہیں ہے کہ اس راز سے پردہ اٹھایا جائے،  ہمیں چاہئے کہ کوشش کریں کہ شب قدر ہمارے اندر برپا ہو نہ اس مہینے کی فلاں تاریخ میں۔ یعنی شب قدر صرف چند ساعتوں پر مشتمل ایک دورانیے کا نام نہیں بلکہ خود کو اللہ سے قریب کرنے کی شب ہے!!

 

۸- یہ مہینہ ہمارے لئے «ربیع القرآن»یعنی قرآن کی بہار کا زمانہ ہے

اس قرآنی بہار کے موسم میں روزانہ ایک آیت کا انتخاب کرو  اور حالت روزہ میں ااس کی مکرر مگر باتوجہ تلاوت کرتے رہو اور ساتھ ہی اس میں موجود تربیتی نکات کی جانب توجہ کرو، امید ہے کہ افطار کے خاص خدائی وقت میں وہی ایک آیت تمہارے سامنے سے رازوں پر سے پردہ ہٹا دے۔

 

۹- اس پورے ماه رمضان میں تمہاری توجہ حقیقی روزے دار اور انسان کامل یعنی امام عصر(عجل اللہ فرجہ ) سے کسی بھی صورت میں منقطع نہیں ہونی چاہئے.

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: