IQNA

9:39 - April 20, 2021
خبر کا کوڈ: 3509171
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اعلان کیا ہے کہ حکومت پاکستان فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کی قرار داد آج قومی اسمبلی میں پیش کرے گی۔

ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ حکومت پاکستان اور کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے مابین ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد کیا گیا۔

یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ گزشتہ روز قومی اسبملی کا اجلاس جمعرات 22 اپریل تک کے لیے ملتوی کردیا گیا تھا اور آج کوئی اجلاس شیڈول نہیں تھا۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک ملک بھر سے بالخصوص مسجد رحمتہ اللعالمین سے دھرنے ختم کرنے پر رضامند ہوگئی ہے اور بات چیت کا سلسلہ مزید آگے بڑھا جائے گا۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کارکنان کے خلاف درج کیے گئے تمام مقدمات بشمول فورتھ شیڈول کے واپس لیے جائیں گے اور اس حوالے سے مزید تفصیلات آج پریس کانفرنس کر کے جاری کی جائیں گی۔

 

یہ اعلان وزیر مذہبی امور اور وزیر داخلہ شیخ رشید پر مشتمل حکومتی ٹیم کے ٹی ایل پی رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کے تیسرے دور بعد کی گئیں۔

 

قبل ازیں مذاکرات کے دوسرے دور میں گورنر پنجاب چوہدری سرور اور صوبائی وزیر قانون راجا بشارت نے حکومت کی نمائندگی کی تھی۔

 

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس سے قبل کوٹ لکھپت جیل میں ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی اور حکومتی ٹیم کے مابین 7 گھنٹے طویل مذاکرات کے تینوں ادوار بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئے تھے۔

ان مذاکرات میں پنجاب قران بورڈ کے چیئرمین حامد رضا، سنی تحریک کے ثروت اعجاز قادری، جے یو آئی پاکستان کے سابق رکن اسمبلی عبدالخیر محمد زبیر اور مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی میاں جلیل شرق پوری نے حکومت کی نمائندگی کی تھی۔

 

حکومتی وفد کے ہمراہ سعد رضوی کے چھوٹے بھائی انس رضوی بھی جیل گئے جہاں انہوں نے ٹی ایل پی سربراہ کے ساتھ افطاری کی اور تراویح پڑھی۔

 

ٹی ایل پی کے مطالبات

تحریک لبیک نے حکومت کے سامنے چار شرائط رکھی تھیں جس میں کہا گیا کہ فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی حمایت کے بعد فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کیا جائے۔

 

انہوں نے مزید مطالبات کیے کہ پارٹی کے امیر سعد رضوی کو رہا کیا جائے، پارٹی پر پابندی ختم کی جائے اور گرفتار کارکنوں کو رہا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف درج ایف آئی آر بھی ختم کی جائیں۔

1158319

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: