IQNA

10:25 - April 24, 2021
خبر کا کوڈ: 3509185
تہران(ایکنا) پاکستان ۲۲۰ ملین آبادی کے ساتھ مسلم اکثریت ملک شمار ہوتا ہے جو کورونا کا دوسرا سال تجربہ کر رہا ہے۔

ایکنا رپورٹ کے مطابق ۹۷ فیصد مسلم آبادی والے ملک پاکستا کورونا کا دوسرا سال گزار رہا ہے جہاں لوگ دوسرے سال میں رمضان اور کورونا یکجا دیکھ رہے ہیں۔

پاکستانی عوام رمضان کی آمد کے ساتھ ہی کوشش کررہے ہیں کہ ایس او پیز کے ساتھ اجتماعی عبادات بجا لاسکے۔

آبادی کے لحاظ سے چھٹا بڑا ملک پاکستان ۲۲۰ ملین آبادی کے ساتھ اکثر مسلمان ہے جہاں رمضان کے حوالے سے خاص آداب و رسوم موجود ہے۔

افطاری و سحری پروگراموں کے ساتھ ناداروں کے لیے خوراک کا انتظام کرنا اور عوامی مقامات پر افطاری اور امداد رسانی عام دیکھنے کو ملتے ہیں۔

رمضان اور کورونا ۲۲۰ ملین اسلامی ملک میں

وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ دنوں خطاب میں کورونا کے سنگین مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عوام سے کہا کہ وہ ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنائے تاکہ بڑی مشکلات اور لاک ڈاون وغیرہ سے بچا جاسکے۔

رمضان میں عوام کو سہولیات کے لیے حکومتی کوشش سے سستے بازار اور یوٹیلیٹی اسٹور پر عوام کی سستی اشیاء کی فراہمی یقینی بنانے کی تاکید کی گیی ہے.

پاکستان میں عوام کو سختی سے تاکید کی گیی ہے کہ وہ مساجد میں ایس او پیز پر عمل کریں اور بچوں کے علاوہ پچاس سال سے زاید عمر کے افراد کو مسجد نہ لائیں جبکہ ماسک کا استعمال یقینی بنایا جائے۔

رمضان اور کورونا ۲۲۰ ملین اسلامی ملک میں

 گرچہ نماز و تراویح کی ممانعت نہیں کی گیی ہے تاہم ایس او پیز پر عمل پر تاکید کی جارہی ہے، حکومتی کوشش کے باوجود رمضان میں مذہبی اجتماعات کا سلسلہ روکنا مشکل دکھائی دے رہی ہے اور عوام کے ساتھ علما بھی نماز باجماعت پر اصرار  کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

 

پاکستان علما کونسل کے سربراہ طاهر اشرفی کا کہنا ہے کہ کونسل کی پوری کوشش ہے کہ تمام علاقوں میں عوام اور علما کی مدد سے ایس او پیز پر عملدرآمد کرایا جائے۔

 

حکومتی خصوصی اجلاس میں تاکید کی گیی ہے کہ کھلی فضاء میں کھانے کا اہتمام کیا جائے جبکہ ہفتے اور اتوار کو بین الصوبائی سفری پابندی کے علاوہ دیگر ایام میں چھ بجے تک بازار کھولنے کی اجازت دی گیی ہے۔

3965954

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: