IQNA

11:59 - April 26, 2021
خبر کا کوڈ: 3509194
تہران(ایکنا) مسجد نظامیه جوہانسبرگ کے قریبی شهر «میڈرانڈ» میں واقع ہے اور کہا جاتا ہے کہ عظیم ترین مساجد میں شمار کی جاتی ہے جو دس ایکڑ پر واقع ہے۔

ایکنا نیوز کے مطابق جنوبی افریقہ افریقہ میں ترک طرز تعمیر کی مسجد اکتوبر سال ۲۰۰۹ میں شروع کی گیی جو سال ۲۰۱۲ میں مکمل ہوئی۔

 

ترک تاجرعلی کاتیرچی اوغلو عثمانی طرز کے فن معماری کو امریکہ میں فروغ دینا چاہتے تھے مگر وہاں موقع نہ ملنے پر انہو|ں نے جنوبی افریقہ میں اس مسجد کی تعمیر کی ۔ کہا جاتا ہے کہ ترک اپوزیشن لیڈر فتح اللہ گولن کی تاکید پر یہ مسجد تعمیر کی گیی ہے۔

 مسجد پر یکم اکتوبر ۲۰۰۹ سے کام کا آغاز ہوا اور  ۴ اکتوبر ۲۰۱۲ کو رسمی طور پر جنوبی افریقہ کے صدر یعقوب زوما نے اس کا افتتاح کیا. مسجد کے نام کو پندرہویں صدی کے مدرسہ نظامیہ سے لیا گیا ہے جہاں ایک تعلیمی سسٹم موجود تھا جس سے بغداد سمیت اسلامی دنیا استفادہ کرتی تھی۔

 

مجموعه نظامیه ( ترکی: Nizamiye Külliyesi)  میں مسجد کے علاوہ کئی ادارے ترکی میں شامل ہے جہاں بڑے ہالز اور دیگر عمارات موجود ہیں۔

 

اکتوبر ۲۰۰۹ سے مسجد پر کام شروع ہوا اور سال ۲۰۱۲ کو مکمل ہوا، مسجد کے مین دروازے کو عثمانی دور کے مسجد سلیمیه کے طرز پر بنایا گیا ہے جب کہ مسجد کی تعمیر جنوبی افریقین انجنیر کی مدد سے مکمل کی گیی ہے۔

 

 

ایک ہی وقت میں ۶۰۰۰ نمازی عبادت کرسکتے ہیں، وضو خانے کا وسیع اہتمام ہے اور مسجد کو سبز اور بلیو رنگ سے مزین کیا گیا ہے۔

 

مدرسه نظامیه کا اس مسجد میں ۲۰۱۲ کے شروع میں افتتاح کیا گیا جہاں اسلامی دروس کا اہتمام ہے، یہاں پر انگریزی زبان، عربی اور ترکی زبان بھی سیکھایا جاتا ہے اور مدرسے میں تین سو طلبا اس وقت زیر تعلیم ہیں۔

 

شہر میں دس مقامات پر کلینیک نظامیه بھی قایم کیا گیا ہے جو نیلسن منڈیلا کی درخواست پر ترک سرمایہ دار علی کاتیرچی اوغلو نے قایم کیا ہے۔

 

نظامیہ قبرستان بھی اس مسجد کے ایک جانب بنایا گیا ہے جہاں عثمانی دور کے جنوبی افریقہ میں سفیر مھمت رمزی کا مزار بھی واقع ہے۔/

3966959

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: