IQNA

9:33 - June 06, 2021
خبر کا کوڈ: 3509482
تہران(ایکنا) ویانا اسقف اعظم کریسٹوف شونبورن نے حکومت کی جانب سے سیاسی اسلام کے نقشے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے امن و امان میں خلل پڑنے کا اندیشہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق ویانا اسقف اعظم کریسٹوف شونبورن کا کہنا تھا: ایک جامع نقشہ بنانے کی ضرورت ہے جسمیں بلا تفریق تمام مذہبی انجمنوں کو شامل کی جاتی ۔

 

انکا کہنا تھا: ملک میں باہمی تعلقات اور اعتماد کی وجہ سے مناسب فضاء قایم ہے اور ایک خاص مکتب کو نشانہ بنانا درست نہیں۔

 

کارڈینال شونبورن کا کہنا تھا: اس مہینے کے آخر میں تمام مذاہب کے نمایندوں کی ایک نشست منعقد کرنے کا اہتمام کیا جارہا ہے۔

 

اسقف اعظم ویانا کا کہنا تھا کہ مذاہب اور مسلمانوں کے ساتھ  رواداری اور افھام و تفہیم آسٹریا کے مفاد میں ہے۔

 

قابل ذکر ہے آسٹریا کے سیاسی اسلام کے نقشے پر مختلف طبقوں کے اعتراضات کا سلسلہ جاری ہےاور منتقدین کا کہنا ہےکہ ایک خاص طبقے کو نشانہ بنانا خطرناک ہے۔

 

اس نقشے میں چھ سو تئیس مساجد کو شامل کیا گیا ہے اور بیرون ممالک سے اس کے رابطوں کی نشاندہی کی گیی ہے۔

 

 

 

آسٹریا مسلم یوتھ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ اس نقشے کے خلاف عدالت میں کیس دائر کیا جائے گا کیونکہ اس نقشے سے ان مساجد کو خطرہ پہنچ سکتا ہے۔

 

منتقدین کا کہنا ہے کہ اس نقشے سے «اسلام اور دہشت گردی کو یکجا دیکھا گیا ہے» جس سے اسلاموفوبیا میں شدت آسکتی ہے۔

 

«نقشۀ اسلام» ویانا یونیورسٹی اور مرکز اسناد آسڑیا کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔

نقشے پر مختلف مذاہب کے نمایندوں کے اعتراضات کا سلسلہ جاری ہے،پروٹسٹنٹ کلیسا نے تحفظات کا اظھار کیا ہے، اسقف چالوپکا نے آسٹریا کے امیگریشن منسٹر سے کہا ہے کہ اس نقشے کو نیٹ سے ہٹایا جائے۔/

 

3975719

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: