IQNA

جموں و کشمیر:
21:31 - June 13, 2021
خبر کا کوڈ: 3509544
تہران (ایکنا) مجھے اگر عدالتوں سے انصاف نہیں ملا مگر مجھے میرے پروردگار نے یہ انصاف دیا کہ میں دنیا بھر میں شھید طفیل متو کے قاتلوں کے ساتھ ساتھ وطن کے غاصبوں کی صحیح تصویر برملا کر سکا۔

حوزہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق،جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے رکن و  امام جمعه حسن آباد حجۃ الاسلام آغا سید عابد حسین حسینی نے شہید طفیل متو کی گیارہویں سالگرہ پر انکی شہادت کی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں بارہ سال بعد حوزہ علمیہ قم ایران سے فلسفہ اسلامی میں ماسٹر کر کے کشمیر واپس آیا تھا کہ دو مہینوں بعد ہی 11 جون 2010 کو کشمیر کے حالت یک دھم دگرگون ہوئے چارسو ماتم کی صفیں بچھ گئی جسکی وجہ یہ تھی کہ ہمارے پڑوسی سعیدہ کدل کے سترہ سالہ طفیل صبح سویرے اپنے گھر سے ٹیوشن پڑھنے اپنے استاد کے پاس گیا تھا لیکن اسکے گھر واپس آنے کے بجائے گھر یہ خبر پہنچی کہ پولیس نے طفیل کو راہ چلتے آنسو گیس کا شیل مار کر شہید کیا بس یہ خبر پہنچنی تھی ہمارے علاقے میں چارسو قیامت کا سما برپا ہوا شھید کے گھر پر جوق در جوق لوگوں جمع ہوئے تو دیکتھے ہی دیکھتے عوام کا سمندر امنڈنے لگا جس سمندر کی لہروں نے پوری وادی کشمیر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ افسوس کی بات یہ ہے بجائے اسکے کہ شھید طفیل کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاتا اور انہیں کڑی سے کڑی سزا دی جاتی انتظامیہ نے ان کے اختیارات مزید  اتنے زیادہ بڑائے کہ طفیل کی شھادت کے کچھ دن بعد ہمارے علاقے کا ہی ایک اور نوجوان وامق فاروق کو شھید کیا گیا اور پھر یہ سلسلہ ختم نہ ہوا یہاں تک سیکنڈوں جوانوں اور نوجوانوں کو کچھ ہی مہینوں میں شھید یا زخمی کیا گیا۔

 آج دس سال بعد طفیل کے ‏والد بوڑھے ہو گئے لیکن بیٹے کی یاد بوڑھی نہیں ہوئی انکے والد اشرف متو گیارہ سال سے اپنے بیٹے کی تصویر اٹھائے انصاف مانگ رہا ہے لیکن انصاف نہیں ملا باپ تو بوڑھا ہو گیا لیکن انصاف کی تڑپ ابھی جوان ہے۔ بقول انکے شھید مجھے اگر عدالتوں سے انصاف نہیں ملا مگر مجھے میرے پروردگار نے یہ انصاف دیا کہ میں دنیا بھر میں شھید طفیل متو کے قاتلوں کے ساتھ ساتھ وطن کے غاصبوں کی صحیح تصویر برملا کر سکا۔

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: