IQNA

7:48 - July 22, 2021
خبر کا کوڈ: 3509855
طالبان کی پیش قدمی کیساتھ ہی گذشتہ 20 سال سے خاموش رہنے والے انکے حامیوں کو کھل کر منظرعام پر آنے کا موقع ملا ہے۔
افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کیساتھ ہی طالبان مکمل طور پر منظرعام پر آگئے اور آہستہ آہستہ مختلف علاقوں پر قبضہ کرنا شروع کردیا، جس کے بعد افغانستان کے اندرونی حالات میں یکسر تبدیلی آنا شروع ہوگئی، طالبان کی پیش قدمی کیساتھ ہی گذشتہ 20 سال سے خاموش رہنے والے انکے حامیوں کو کھل کر منظرعام پر آنے کا موقع مل گیا۔ بلاشبہ افغانستان کے بعد اگر کسی ملک میں طالبان یا ان کے نظریات کو پزیرائی حاصل ہے تو وہ پاکستان ہے۔ سوویت یونین کی افغانستان پر چڑھائی سے لیکر امریکہ و نیٹو افواج کے حملہ آور ہونے تک اور پھر موجودہ حالات میں بھی افغان طالبان کو پاکستان سے ہمیشہ ہی سے کسی نہ کسی صورت میں حمایت حاصل رہی ہے، ایک سرحد اور پشتو زبان و کلچر کیوجہ سے خیبر پختونخوا، سابقہ قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان کے پشتون علاقوں میں روز اول سے طالبان کے ہمدرد موجود رہے ہیں، یہ ہمدردیاں، جوکہ گذشتہ حالات کیوجہ سے ’’خاموش‘‘ تھیں، افغانستان میں طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بعد کھل کر منظر عام پر آنے لگیں۔
 
افغانستان میں طالبان کے قدرت مند ہونے کے اثرات کسی نہ کسی صورت پاکستان پر مرتب ہونا فطری عمل تھا، اسی تناظر گذشتہ دنوں پشاور اور پھر کوئٹہ میں باقاعدہ طور پر افغان طالبان کے حق میں جلوس نکلتے دیکھے گئے، پشاور میں یہ واقعہ گذشتہ ہفتہ رات کے وقت پیش آیا، جہاں بورڈ بازار کے قریب افغان طالبان کے سفید پرچم اٹھائے موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں میں سوار افراد طالبان کے حق میں نعرے لگاتے دیکھے گئے۔ ذرائع کے مطابق ریگی قبرستان میں یہ ہجوم دیکھا گیا، جو سفید پرچم اٹھائے ہوئے تھا اور کسی کی تدفین کی جا رہی تھی۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ تدفین افغان طالبان کے اہم ایک رکن عبدالرشید کی تھی، جو افغانستان میں ہلاک ہوا تھا، عبدالرشید کی میت پاک افغان سرحد پر طورخم کے راستے پشاور لائی گئی۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ جنازے میں کافی تعداد میں لوگ اکٹھے ہوئے تھے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ میت طورخم سرحد سے قافلے کی شکل میں پشاور کے بورڈ بازار کے قریب راحت آباد سے ریگی قبرستان لائی گئی۔
 
کیا افغان طالبانائزیشن پاکستان پہنچ گئی؟
 
ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والا عبدالرشید پشاور کے مولانا مفتی معروف کا بھتیجا اور مولانا مفتی اسی علاقے ریگی کے رہائشی ہیں، تدفین کے فوری بعد ہی تمام افراد واپس چلے گئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد پشاور پولیس نے افغان طالبان کا پرچم لہرانے اور نعرہ بازی کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر کے دو افراد کو گرفتار بھی کیا جبکہ ایک مدرسہ بھی سیل کر دیا گیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ مدرسہ مفتی معروف کا ہے، جو مدرسہ احیاء العلوم کے نام سے جانا جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل آف پولیس معظم جاہ انصاری کی جانب سے جاری کیے گئے ایک مختصر بیان میں کہا گیا کہ سفید پرچم لہرانے کے واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ یہ مقدمہ پولیس تھانہ ریگی میں درج کیا گیا ہے، منظر عام پرآنے والی وڈیو کو مانیٹر کر رہے ہیں، کسی کو غیر قانونی قدم اٹھانے نہیں دیں گے، انہوں نے بتایا کہ کسی بھی صورت حال کے تناظر میں ہم سب ایک ہیں، ہم سب کو ملکر اس خطہ کو محفوظ کرنا ہوگا۔
https://m.facebook.com/photo?fbid=1981278925354667&set=a.106034882879090
علاوہ ازیں طالبان کے حق میں جلوس نکالنے کا دوسرا واقعہ کوئٹہ میں بدھ کے روز پیش آیا، جہاں چند موٹر سائیکل سوار سرکاری اور حکومتی حوالے سے ایک اہم علاقے سے گزرتے ہوئے نظر آئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تاحال اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے اور وہ صورتحال کو مانیٹر کر رہے ہیں۔ جس علاقہ سے طالبان کے حامی گزرے اس علاقے سے روزانہ لوگوں کی بہت بڑی کی آمدورفت ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ماضی میں افغان طالبان کی حمایت میں جلسے اور جلوس ہوتے رہے ہیں۔ گذشتہ روز صوبائی وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء لانگو نے ایک نجی ٹی وی چینل پر گفتگو میں کوئٹہ میں طالبان کی حمایت میں ریلی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے حامیوں نے طالبان کی حکومت کی خوشی میں ریلی تو نکالی، تاہم ریلی کے شرکاء کی جانب سے ریاست کے خلاف کوئی ایسی بات یا نعرے بازی نہیں کی گئی، جس کیخلاف حکومت بلوچستان کارروائی کرے، کسی کیلئے اخلاقی طور پر ریلی نکالنا جمہوری حق ہے۔ ریلی کے شرکاء عام عوام تھی، جو افغانستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں، جن کے کچھ رشتہ دار افغانستان میں ہیں۔
 
پشاور اور کوئٹہ میں نکالے گئے ان جلوسوں کے حوالے سے جمعیت علمائے اسلام کا نام بھی لیا جارہا تھا، کہ ان جلوسوں میں شامل افراد میں جمعیت کے کارکنان بھی شامل تھے۔ اس حوالے سے جمعیت علمائے اسلام (ف) خیبر پختونخوا کے ترجمان مولانا جلیل جان سے رابطہ کیا گیا، ان کا کہنا تھا کہ ان جلوسوں میں جمعیت علمائے اسلام کے کارکنان شریک نہیں ہوئے، بلکہ اس حوالے سے جے یو آئی نظریاتی کا نام لیا جارہا ہے، جے یو آئی نظریاتی کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم سیاسی و جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں، ہم نے ایسے کسی جلوس کی سرپرستی نہیں کی، جنہوں نے ریلیاں نکالی ہیں ان سے پوچھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہاں یہ ضرور ہے کہ کابل سے ایک شخص کی میت پشاور لائی گئی تھی، اگر کسی نے طالبان کا ایک، آدھ جھنڈا اٹھایا تو یہ حکومت کی کوتاہی ہے، حکومت نوٹس لے اور کارروائی کرے۔ افغانستان میں مستقبل میں جس کی حکومت آتی ہے، ہم اسے تسلیم کریں گے۔ جب افغانستان میں بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں تو ہمیں بھی تکلیف ہوتی ہے، بلکہ افغانستان میں ہی نہیں، کشمیر، فلسطین یا عراق میں بھی مسلمانوں مارے جاتے ہیں تو ہمیں افسوس ہوتا ہے۔
 
امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے بعد وہاں حالات خراب ہونے اور اس کے اثرات پڑوسی ممالک، بالخصوص پاکستان پر مرتب ہونے کے واضح امکانات تو موجود تھے ہی، تاہم ان منفی اثرات سے ملک کو بچائے رکھنا حکومت پاکستان اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان نے افغان جنگ کیوجہ سے ہی ستر ہزار سے زائد قیمتی انسانوں جانوں اور اربوں ڈالرز کا نقصان برداشت کیا ہے، ایسے میں وطن عزیز مزید کسی نئی محاذ آرائی یا پھر سرد جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ بحیثیت پڑوسی اور اسلامی ملک افغانستان میں قیام امن، وہاں سیاسی استحکام اور ترقی پاکستان کی خواہش ہونی چاہئے، تاہم کسی مخصوص طبقہ کو اقتدار میں لانے کی خواہش سے بہتر یہ ہوگا کہ افغان عوام کو جمہوری اور سیاسی عمل کے ذریعے اپنے مستبقل کا فیصلہ کرنے میں آزاد چھوڑا جائے۔ ایسی صورتحال میں پاکستان سمیت چین اور ایران کا رول انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اگر تینوں ممالک مزید ہم آہنگی کے ذریعے افغان امور کو بہتر انداز میں آگے بڑھاتے ہیں تو خطہ میں امریکی عزائم اور بھارت کی بالادستی کی سازش کو آسانی کیساتھ ناکام بنایا جاسکتا ہے۔
عدیل زیدی
نوٹ: اس مضمون میں دی گئی رائے مصنف کی ہے ایکنا کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
 
نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: